قسمت کے ثمار — Page 105
کے حصول اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں اور خدا کے راستباز بندے ہمیشہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔نفل نماز کے متعلق یہ بھی یادرکھنے کی بات ہے کہ فجر یعنی پو پھٹنے سے طلوع سورج تک اسی طرح نصف النہار کے وقت یعنی جب سورج عین درمیان میں ہو اور نماز عصر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک نوافل کی ادائیگی منع ہے۔بعض اوقات یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب کسی خوش قسمت کو کسی مرکزی مسجد جیسے خانہ کعبه، مسجد نبوی ، مسجد بیت المقدس، مسجد اقصیٰ مسجد مبارک قادیان، ربوہ اور پھر ایسی مسجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملے جہاں خلیفہ وقت نماز پڑھاتے ہوں تو وہاں بڑی رغبت، بڑے خشوع و خضوع سے زیادہ سے زیادہ نفل پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جہاں تک نفلوں اور دعاؤں کی رغبت کا تعلق ہے وہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت عطا فرمادے لیکن اس سلسلہ میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایسے مواقع پر بعض اوقات یہ امر مد نظر نہیں رہتا کہ ہم ممنوعہ اوقات میں تو نوافل ادا نہیں کر رہے۔کیونکہ اصل نیکی تو اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے۔یہ امرا کثر صبح کی نماز کے وقت دیکھنے میں آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں قادیان اور ربوہ میں اکثر صبح کی نماز کے وقت اور بعض دوسرے اوقات میں بھی یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نفل ادا نہ کئے جائیں۔بعض دفعہ یہ غلط فہمی بھی ہو جاتی ہے غالباً صبح کی اذان کے بعد ممنوعہ وقت شروع ہوتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پو پھٹنے یا صبح صادق سے یہ وقت شروع ہو جاتا ہے۔اذان تو بعض دفعہ جلدی بھی ہو جاتی ہے اور اکثر تاخیر سے ہوتی ہے مگر طلوع فجر سے سورج کے اچھی طرح طلوع ہونے تک صرف صبح کی نماز کی چار رکعت یعنی دوسنت اور دو فرض ہی ادا کئے جاتے ہیں۔اور اس وقت نوافل کی ادائیگی منع ہے۔جو خوش قسمت اس وقت مسجد میں موجود ہوں وہ خاموشی سے تلاوت قرآن مجید، ذکر الہی 105