قسمت کے ثمار — Page 71
کو نہیں ملے گا، نئی نئی تیز رفتار سواریاں جاری ہوں گی ، آسمان سے آگ نازل ہوگی ، صلیب کے ماننے والوں کا غلبہ ہوگا، مسلمان یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے، دجل و فریب کا دور دورہ ہوگا۔وغیرہ وغیرہ۔مذکورہ بالا سب علامتیں پوری ہوچکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے سو ڈیڑھ سو سال سے مسیح و مہدی کا انتظار کرتے کرتے اب بعض لوگ مایوسی کے عالم میں یہ بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ آخری زمانہ کی علامتیں اور آنے والے کا تصور ایک عجمی سازش تھی اور حضور اکرم لایا ہی ہم نے ایسی کوئی خبر نہیں دی تھی مگر یہ بات بعید از قیاس و عقل ہے کہ تیرہ سوسال کا لمبا عرصہ تو یہ علامات صحیح اور درست سمجھی گئیں مگر جب ان علامات کے پورا ہونے کا وقت آگیا تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ سرے سے یہ باتیں ہی غلط ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پرواہ نہ کی گئی کہ ان باتوں کے پورا ہونے سے تو آنحضرت سی ای ایم اور قرآن مجید کی عظمت و صداقت ثابت ہوتی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ مشکل اور الجھن کیوں پیش آئی۔آنحضرت صلیا ایلیم نے آخری زمانہ کی خرابیوں اور علامات کو بیان کرتے ہوئے جس امام کی آمد کی خوشخبری عطا فرمائی تھی اسے حکم و عدل قرار دیا تھا۔حکم وعدل کے الفاظ سے ہی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں غلط باتیں اور عقائد عام ہو چکے ہوں گے اور آنے والا مصلح ان غلطیوں کی اصلاح کر کے صحیح امور کی طرف لوگوں کو دعوت دے گا۔آنحضرت ملا لیا ایم کے ارشادات کے مطابق جب آنے والے امام نے یہ اعلان کیا: میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار تو یہ مسلمانوں کیلئے ایک خوشخبری تھی کہ حضور صلین سال پیام کی سچائی کا ایک روشن نشان پورا ہورہا ہے مگر مسلمانوں نے خوش ہونے کی بجائے اور یہ سمجھنے کی بجائے کہ اب ہمارا مسیحا ہمیں نئی زندگی اور 71