قسمت کے ثمار — Page 58
عمر کو پہنچ جائے تو پھر اسے باقاعدہ ان آداب کے متعلق سمجھایا اور بتایا جائے تو بچپن کی عادت اور احساس کی وجہ سے وہ اس بات کو جلدی اور آسانی سے سمجھ جائے گا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم خود بھی بعد میں جا کر اطمینان وسکون سے صفوں کا خیال رکھتے ہوئے قبلہ رخ بیٹھ کر خاموشی سے ذکر الہی میں مصروف ہو جائیں۔اس طرح کرنے سے پھر مسجد میں فضول اور دنیوی باتیں کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہ شخص جو آپ سے بعد میں مسجد میں آئے گا وہ آپ کی خاموشی اور یکسوئی کو دیکھتے ہوئے ادھر اُدھر کی باتیں شروع ہی نہیں کر سکے گا اور اسے بھی یہی مناسب نظر آئے گا کہ وہ آرام سے مسجد میں بیٹھ کر مسجد کی برکات سے استفادہ کرے۔جماعت احمدیہ کا قیام خالصۂ روحانی مقاصد کیلئے تھا۔ہر وہ شخص جسے قبول احمدیت کی سعادت حاصل ہوئی تھی وہ ابتلا اور آزمائش کی کٹھالی میں ڈالا جاتا اور اس طرح اپنے ایمان کو مضبوط وخالص کرنے کے مواقع حاصل کرتے ہوئے اپنے روحانی اعلیٰ مقاصد کیلئے کوشاں رہتا۔صحابہ کرام کا ساده طریق عمل اور طرز زندگی بعض اس وقت کی مشہور ہستیوں کو اچھا نہ لگا اور انہوں نے جماعت کی مخالفت میں اعلیٰ اسلامی اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مساجد کے باہر نہایت دل آزار قسم کی ایسی عبادتیں آویزاں کر دیں جن کا مطلب یہ تھا کہ ان مسجد میں احمدیوں کو داخل ہونے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔اپنے اس اقدام سے انہوں نے جہاں ایک طرف اپنے آپ کو اسلامی اقدار و روایات سے الگ کر لیا وہاں احمدیوں کو یہ سکون و اطمینان بھی ملا کہ وہ سنت نبوی پر عمل پیرا ہیں اور اعلیٰ اسلامی اقدار کے قیام کیلئے قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔مخالفوں کی مخالفت اور حسد کی آگ نے اسی پر اکتفا نہ کیا کہ احمدی ان کی مساجد میں (حالانکہ مسجد تو اللہ تعالی کی ہوتی ہے ) داخل نہ ہوں بلکہ یہ دیکھتے ہوئے کہ احمدیوں نے مساجد کی آبادی میں کوئی کمی نہیں آنے دی بلکہ عبادت و ذکر الہی میں انہماک سے انہیں اور زیادہ آباد کر لیا ہے تو یہ کوشش شروع کر دی گئی کہ احمدیوں کی مساجد کو مساجد کا نام نہ دیا جائے یا یہ کہ احمدی مساجد نہ بنا سکیں 58