قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 43 of 365

قسمت کے ثمار — Page 43

رک جانا تو سیکھا ہی نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو پورا ہوتا دیکھ کر پہلے سے بھی زیادہ جوش اور جذبے سے ہر قربانی پیش کرتے چلے گئے۔ربوہ کے جلسے ایک بین الاقوامی تقریب کی شکل میں ڈھلنے لگے اور وہ قومیں جو اس کیلئے خدا تعالیٰ نے تیار کر رکھی تھیں وہ ان جلسوں کی زینت و رونق بننے لگیں۔ہمارے حاسدوں کو یہ ترقی کس طرح راس آسکتی تھی۔ربوہ کے جلسوں کو حسد کی آگ میں جلانے کی کوشش کی گئی مگر اس سے جو گلزار پیدا ہوا اس کی خوبصورتی اس کی رونق اور اس کی بہار کا کوئی بھی اندازہ نہ کر سکتا تھا۔اب یہ سالانہ جلسے دنیا بھر کے احمدی مراکز میں منعقد ہونے لگے اور قادیان کا جلسہ اپنے فیوض و برکات دنیا بھر میں برابر پھیلا رہا ہے۔ربوہ کے پہلے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بنا العون نے بڑے ولولہ انگیز انداز میں فرمایا: ”دیکھو جو کچھ خدا نے فرمایا تھا وہ پورا کر دیا۔یہ خدا کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے وعدہ کے مطابق اس عظیم الشان ابتلاء میں مجھے جماعت کی حفاظت کرنے اور اسے پھر اکٹھا کرنے کی توفیق دی۔تمہیں چاہئے کہ اپنے رب کا شکر ادا کرو اور سچے مسلمان بنو۔یا درکھوتم وہ قوم ہو جو آج اسلام کی ترقی کیلئے بمنزلہ بیچ کے ہو تم وہ درخت ہو جس کے نیچے دنیا نے پناہ لینی ہے۔تم وہ آواز ہو جس پر محمد رسول اللہ ان ایلام فخر کریں گے اور اپنے خدا کے حضور کہیں گے کہ اے میرے رب ! جب میری قوم نے قرآن کو پھینک دیا تھا اور تیرے نشانات کی قدر کرنے سے منہ موڑ لیا تھا تو یہی وہ چھوٹی سے جماعت تھی جس نے اسلام کے جھنڈے کو تھامے رکھا۔اسے مارا گیا، اسے بدنام کیا گیا، اسے گھروں سے بے گھر کیا گیا اور اسے مصیبت کی چکیوں میں پیسا گیا مگر اس نے تیرے نام کو اُونچا کرنے میں کو تا ہی نہیں کی۔میں آسمان کو اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ خدا نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا۔وہ سچے وعدوں والا خدا ہے جو 43