قسمت کے ثمار — Page 346
کے فضل سے قادیان اور احمدیت کا نام تو چار دانگ عالم میں پھیلا ہوا ہے مگر فاتح صاحب دیر سے کتم عدم اور گمنامی کی چادر اوڑھ چکے ہیں۔ان مولوی صاحب کے ساتھ خاکسار کی ایک ملاقات لاہور میں ہوئی تھی۔یہ ہمارے ایک مخلص احمدی دوست کے گھر میں کسی مشتر کہ دوست کی وجہ سے کھانے پر مدعو تھے۔کھانے کی میز پر پر تکلف کھانوں کے علاوہ خشک میوہ جات بھی پڑے ہوئے تھے جو ان کے ساتھی مزے مزے سے کھا رہے تھے مگر مولوی صاحب اپنے دانتوں کی خرابی کی وجہ سے کھا نہیں پارہے تھے۔اپنے ساتھی سے کہنے لگے تم جو بادام وغیرہ کھارہے ہو ، میری جیب میں بھی ڈالتے جاؤ۔یہ وہ احراری علماء تھے جو احمدیوں کے ساتھ کھانا پینا حرام قرار دیتے نہ تھکتے تھے۔ان سے ایک بہت دلچسپ ملاقات ملتان میں ہوئی۔خاکسار ان دنوں احمدیہ مسجد حسین آگاہی ملتان میں متعین تھا۔ملتان کے ایک پر جوش شیعہ صاحب کبھی کبھی ملنے آیا کرتے تھے۔گفتگو میں لاجواب ہو کر ناراض ہو کر چلے جایا کرتے تھے۔مگر پھر ملاقاتیں شروع ہو جاتیں تھیں۔ایک دفعہ ان کا پیغام ملا کہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ آنا چاہتا ہوں۔ان کو کہا گیا چشم ما روشن و دل ما شاد۔جب چاہیں تشریف لے آئیں۔خیر جب وہ آئے تو ان کے ہمراہ کھدر کی دھوتی اور کھدر کی چادر میں ایک دیہاتی صاحب تھے۔انہوں نے بہت ہلکی بلکہ قدرے زنانہ آواز میں اپنا تعارف کروایا: میرا نا محمد حیات ہے میں شکر گڑھ تحصیل کے ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں۔خاکساران کو پہچان چکا تھا۔ان سے کہا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ صاحب جن کے ساتھ آپ آئے ہیں شیعہ خیالات کے ہیں۔کیا آپ بھی شیعہ ہیں؟ اس پر انہوں نے باصرار اپنے سنی ہونے کا ذکر کیا۔مولوی صاحب نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی اس کے ایک کنارے سے کوئی چیز بندھی ہوئی لٹک رہی تھی۔یوں لگ رہا تھا کوئی گڑ شکر قسم کی چیز ہے مگر بات شروع ہوئی تو گرہ کھول کر تشخیذ الاذہان کا ایک پرچہ نکالا اور اپنی گفتگو آگے بڑھانے کے لئے اس کی عبارت پڑھ کر سنائی۔ان کے غلط استدلال اور مسئلے کا مکمل جواب ایک غلطی کا ازالہ میں موجود تھا جو ان کو پڑھ کر 346