قسمت کے ثمار — Page 343
تقریر کا انتظام کیا۔خاکسار نے اور باتوں کے ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک عیسائی پادری کو کتاب Where Did Jesus Die پڑھنے کو دی۔وہ پادری میرا اچھی طرح جانے والا تھا۔مگر اس کتاب کو پڑھ کر وہ بہت ناراض ہوا اور کتاب کا جواب دینے کا ارادہ کیا۔میں نے دیکھا کہ اس نے کتاب پر جگہ جگہ نشان لگائے ہوئے تھے اور اس طرح وہ اپنا جواب تیار کر رہا تھا۔ایک دفعہ وہ اپنے ہمراہ ایک یوروپین ڈاکٹر کو لے کر آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی کتاب میں تو پرانی باتیں لکھی ہیں۔یہ ڈاکٹر صاحب آپ کو جدید تحقیق بتائیں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت ہو گئے تھے۔خاکسار نے بعد میں ان سے کہا کہ آپ کی جدید طبی معلومات اور اصلاحات میں سے تو بہت سی باتیں میرے لئے ناقابل فہم ہیں۔البتہ آپ یہ ضرور بتائیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی ایسا کیس آجائے جس میں وہ گواہیاں ہوں جس طرح کی گواہیاں انجیل میں موجود ہیں تو کیا آپ موت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے ساتھی کی خفت وشرمندگی کی پرواہ نہ کی اور کہا کہ میں ایسی گواہیوں پر سرٹیفکیٹ جاری نہیں کروں گا۔حضرت میاں صاحب اس مجلس کی صدارت کر رہے تھے۔آپ صدارتی تقریر کے لئے اٹھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو جو ساتھی اور مددگار عطا فرمائے تھے ان کی اب تیسری نسل خدمت کر رہی ہے۔اس کے بعد حضرت میاں صاحب کچھ فرمانا چاہتے تھے مگر آپ اس قدر جذباتی ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی ایک فقرہ بھی نہ کہا اور دعا کے بعد مجلس برخاست ہوئی۔حضرت میاں صاحب نے اپنی ساری ذمہ داریاں پوری کیں۔حضرت مصلح موعود کی نصائح پر خوب خوب عمل کیا اور تادم آخر درویشی کو بڑے خلوص اور نیک نیتی سے نبھایا۔خدا تعالیٰ جنت الفردوس میں اپنے پیاروں کے ساتھ جگہ دے۔آمین۔(روزنامه الفضل ربوہ 19 اگست 2006ء) 343