قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 342 of 365

قسمت کے ثمار — Page 342

حضرت میاں صاحب بہت کم گو تھے۔تقریر اور خطاب تو دور کی بات ہے وہ اجنبیوں سے بات بھی کم ہی کرتے تھے مگر جب ان پر یہ ذمہ داری آپڑی کہ وہ خاندان بلکہ دنیا بھر کے احمدیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قادیان میں رہیں تو آپ نے بہت مطالعہ کیا اور آہستہ آہستہ تقریروں میں روانی آتی گئی۔بعد میں وہ ہر جلسہ کی زینت ہوتے تھے۔جلسہ سالانہ پر آپ کی تقاریر اور دوسرے خطاب و خطبات بہت مؤثر ہوتے تھے۔خاکسارا اپنے ابا جان مرحوم میاں عبد الرحیم صاحب درویش کی وجہ سے اکثر قادیان جاتارہتا تھا اور اس طرح زیارت قادیان کے مواقع میسر ہوتے تھے۔ایک دفعہ خاکسار اور برادرم مکرم نذیراحمد ریحان صاحب ،حضرت مولانا ابوالعطا ءصاحب کے ہمراہ قادیان گئے تو ہمیں بھی دارا مسیح میں قیام کا شرف حاصل ہوا جو ہمارے لئے باعث سعادت و خوشی تھا۔اسی طرح ایک دفعہ خاکسار کو قادیان جانے کی سعادت حاصل ہوئی تو ان دنوں میں مدرسہ احمدیہ کے کوئی استاد غالبا رخصت پر کہیں گئے ہوئے تھے تو خاکسار کو مدرسہ احمدیہ میں پڑھانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔خاکسار کو تاریخ تو اچھی طرح یاد نہیں مگر یہ 65 - 1964 کی بات ہوگی۔ہاں ذکر تو یہ کرنا چاہتا تھا کہ حضرت میاں وسیم احمد صاحب نے ابا جان اور خاکسار کو دار مسیح میں دعوت پر بلایا اور اس طرح خاکسار کو یہ نا قابل بیان خوشی اور مسرت حاصل ہوئی۔اس موقع پر اور باتوں کے علاوہ ابا جان نے حضرت میاں صاحب کو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس دفعہ ربوہ جا کر اس کا مکان بنانے کا ارادہ ہے۔حضرت میاں صاحب چونکہ اکٹھے ساتھ رہنے کی وجہ سے ابا جان کی انتھک محنت کی عادت کو خوب جانتے تھے۔اس لئے بڑے اصرار سے ایک سے زیادہ دفعہ فرمایا کہ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔اپنی صحت کے مطابق پروگرام بنانا۔حضرت میاں صاحب کے ذکر میں ایک اور بات بھی بیان کرناضروری معلوم ہوتا ہے۔خاکسار کینیا ( مشرقی افریقہ) سے واپسی پر ابا جان کو ملنے اور قادیان کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے وہاں گیا تو درویشوں کی ایک بزم نے مسجد اقصیٰ قادیان میں خاکسار کی 342