قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 301 of 365

قسمت کے ثمار — Page 301

خدمت رہتی دنیا تک جماعت احمدیہ میں یاد رہے گی۔اس زمانہ کے طلباء ہی تھے جو حضرت مولوی صاحب کی تربیت اور اثر سے بعد میں جماعت احمدیہ کے علمی ستون بنے۔۔۔ان کی یادداشت بلا کی تھی اور حافظہ غضب کا تھا۔حضرت مولوی صاحب رہی ان کے علم و وقار، سادگی اور صاف گوئی نے ان کے طلباء کو ان کیلئے انتہائی ادب و احترام کا مورد بنائے رکھا اور ان کے دل میں حقیقی محبت وعزت پیدا کی۔طالب علم مہد سے لحد تک۔باوجود علمی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے حضرت مولوی صاحب نایلون میں ایک خاص قابل تقلید بلکہ منفر د صفت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی بھی یہ نہ سمجھا کہ اب علم مکمل ہو چکا ہے اور انہیں مزید مطالعہ کی ضرورت نہیں رہی۔انگریزی زبان کے بہت بڑے عالم تھے۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ریلی لین کو جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی عالی ہم نے تفسیر صغیر کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا ارشاد فرمایا تو آپ بینی شوند نے حضرت صاحب بینی شتن سے اپنے ساتھ دو اور انگریزی دانوں کو لگائے جانے کی درخواست کی۔یہ دو بزرگ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بنی الہی اور حضرت مولوی محمد دین صاحب رضی الھند تھے۔حضرت مولوی صاحب نہایت عمدہ با محاورہ اور ٹھوس انگریزی لکھتے تھے۔عرصہ تک ریویو آف ریلیجنز اور سن رائز کے ایڈیٹر بھی رہے۔حضرت صاحب کی جو کتب یا مضامین اس زمانہ میں انگریزی میں شائع ہوئیں ان کے ترجمہ کے بورڈ میں شامل ہوئے۔انگریزی میں ایک اتھارٹی سمجھے جاتے تھے لیکن حضرت مولوی صاحب نے ڈکشنری کا استعمال کبھی بھی ترک نہ کیا۔جب کبھی کسی لفظ کے معانی یا تلفظ کے بارے میں شک پیدا ہوتا فوراً ڈکشنری دیکھتے اور دوسروں کو بھی ڈکشنری کے استعمال کرنے کی تاکید کرتے صحیح تلفظ اور صحیح استعمال پر ہمیشہ زور دیتے۔انگریزی کے علاوہ اردو کے الفاظ کے معاملہ میں بھی یہی طریق تھا۔ان کا در بار علمی تھا اور ان کا فیض عام۔انہوں نے جماعت کو جیسا پایا۔علمی وتعلیمی لحاظ سے اپنی کاوش اور خدمت کے جذبہ سے اسے آگے بڑھا دیا۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے صحبت یافتہ سلسلہ کی اقدار کے محافظ اور پاسبان، ان کی 301