قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 245 of 365

قسمت کے ثمار — Page 245

سمجھا جاتا تھا۔سفر کی غیر معمولی مشقت اور اخراجات برداشت کرنے کے بعد آپ حضور علیہ السلام کے ہر ارشاد کی تعمیل کے لئے بر وقت مستعد و چوکس رہتے کبھی حضور کے خطوں کا جواب دیتے کبھی حضور کو کوئی کتاب پڑھ کر سناتے کبھی غیر ممالک سے آمدہ لٹریچر و اخبارات کا خلاصہ حضور علی نام کی خدمت میں پیش کرتے۔آپ کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ آپ نے حضور کے ارشاد پر عبرانی زبان سیکھ کر اس زبان کی بعض پرانی دستاویزات کے تراجم وخلاصے حضور السلام کی خدمت میں پیش کئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو خلافت ثانیہ میں بھی بعض تاریخی خدمات کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ امریکہ میں تبلیغ اسلام کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوئے۔عشاق کے اس قافلے میں حضرت مولوی شیر علی صاحب بنایا، بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔انگریزی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کے لئے اعلیٰ سرکاری ملازمت کے دروازے کھلے تھے مگر آپ نے کمال استغناء سے کام لیتے ہوئے دینی خدمت کو ترجیح دی اور دونوں جہان حاصل کرلئے۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے دار العلوم دیو بند سے تکمیل تعلیم فرمائی۔دینی علوم میں آپ کے کمال کا اس امر سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مولانا نورالدین بنا وہ بھی بعض مشکل عبارتوں کے حل کے لئے اپنے شاگردوں کو حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں بھجوایا کرتے تھے۔ان کو بھی دارالعلوم دیو بند میں بھاری رقم اور اعلیٰ خدمات کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے بھی حضرت مسیح موعود عالیشاء کی خدمت میں ایک خادم کی طرح زندگی گزارنے کو ہر سعادت وعزت پر ترجیح دی۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی بنی نہ بالکل نوعمری میں ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوئے مگر اپنی خدمت و عقیدت کو اس کمال تک پہنچایا کہ آپ کو قابل رشک خدمات کی توفیق ملی۔جماعت کی ضرورت کے لئے اگر کبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بلایا گیا تو وہ بھی بلا پس و پیش حاضر ہو گئے۔وقف زندگی کی تحریک ہوئی تو بیوہ ماؤں نے اپنے اکلوتے بچے تک دین کی خدمت 245