قسمت کے ثمار — Page 220
ہمتی کی اس قابل فکر حالت میں قرآنی طریق اصلاح کیا ہے۔اور کیا اس سے بھی استفادہ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِينَ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُنْذِرِينَ (الصفت: 73-72) یعنی ایسے موقع پر جب اکثریت گمراہ ہو چکی ہوتو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مندر آ کر اصلاح کا کام کیا کرتے ہیں۔ایسے وقت میں انسانی کوششیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو ئیں جس کا واضح ثبوت مذکورہ بالا تفصیلی جائزہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود حمایت اسلام کی بعض انسانی کوششوں پر نظر ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: " کیا ان کو یاد ہے کہ اسلام کن مصیبتوں کے نیچے کچلا گیا اور دوبارہ تازہ کرنے کے لئے خدا کی عادت کیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان کے اسلامی حمایت کے دعوے کسی قدر قابل قبول ہو سکتے۔لیکن اب یہ لوگ خدا کے الزام کے نیچے ہیں۔۔۔۔اب وہ اس خدا کو کیا جواب دیں گے جس نے عین وقت پر مجھے بھیجا (روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص8) ہے۔66 الفضل انٹرنیشنل9ستمبر 2005ءصفحہ نمبر 2 اور9 220