قسمت کے ثمار — Page 191
و برکات کا سرچشمہ تو یہی سرزمین ہے جسے خاتم النبیین مانی ایام کے مولد ومسکن اور مدفن ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔تاہم آپ کے ایک غلام و خادم کی شبانہ روز دعاؤں سے زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے اس مقام پر بھی دعاؤں اور انابت وخشیت کی اپنی ہی مخصوص کیفیت ہوتی ہے۔الدار اور دوسرے مقدس مقامات کی تفصیل تو اب ہمارے لٹریچر میں بیان و محفوظ ہو چکی ہے اس لئے اس کی تفصیل کو چھوڑا جا سکتا ہے مگر یہ بات ضرور قابل ذکر ہے کہ مرورزمانہ سے طبعی طور پر پرانی عمارتوں اور گلیوں وغیرہ کی مرمت کی ضرورت پیش آنے پر نہایت کاریگری اور عمدگی سے 1 اس ضرورت کو پورا کیا گیا ہے۔تاہم وہ اونچی نیچی غیر ہموار تنگ گلیاں، وہ کچھی پرانی طرز کی عمارتیں وہ سادگی اور بے ساختگی جو بچپن سے وہاں نظر آیا کرتی تھی نگاہیں اس کی متلاشی ضرور رہتی ہیں اور جہاں کہیں پرانی طرز کی اصلی حالت میں کوئی جگہ یا چیز نظر آتی تھی وہ عجب سکون و آسودگی بخش تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں بھی بہت سی خوشکن تبدیلیاں آچکی ہیں۔صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر میں توسیع ہوچکی ہے اور ابھی یہ کام جاری ہے۔ربوہ میں درخت ، پھل، پھول دیکھ کر تو وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ربوہ کا وہ نظارہ آنکھوں کے آگے گھوم جاتا ہے کہ ایک چٹیل میدان جس میں کم از کم چھ انچ موٹی کل کی سفید تہہ جمی ہوئی تھی اور اس سارے میدان میں کیکر کے 2 درخت دور سے نظر آیا کرتے تھے اور یا پھر پہاڑیوں کے پاس خودرو کانٹے دار چند جھاڑیاں ہوتی تھیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک سرسبز و شاداب قصبہ ہے جس میں درختوں کی قطار میں اور طرح طرح کے خوشمنا پھول اور پھل حضرت مصلح موعود بنی ہونے کی اولوالعزمی اور صبر و استقلال کی داد دے رہے ہیں۔خاکساراس مجلس میں موجود تھا جس میں حضرت مصلح موعود بنی امیہ نے لاہور سے آنے والے 191