قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 188 of 365

قسمت کے ثمار — Page 188

ربوہ اور قادیان کا سفہ دس گیارہ سال کے لمبے وقفہ کے بعد گزشتہ سال کے آخر میں قادیان کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔قادیان کے ساتھ ہر احمدی کا روحانی اور جذباتی گہرا تعلق ہے خواہ اس نے کبھی قادیان دیکھا بھی نہ ہو۔مگر خاکسار کا خاندان تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے ہی قادیان سے وابستہ ہو گیا تھا۔پھر میرے دادا جان حضرت میاں فضل محمد صاحب اور اسی طرح میرے نانا جان حضرت حکیم اللہ بخش صاحب کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ وہ ہجرت کر کے قادیان کے ہی ہوکر رہ گئے۔خاکسار نے اپنا بچپن اس مقدس بستی میں گزارا۔بچپن کے کھیل کو داور دوسرے مشاغل سے زیادہ قادیان کی مساجد، ان مسجدوں میں نماز پڑھانے والے بزرگ اور درس دینے والے علماء کی نہایت پاکیزہ یادیں نمایاں ہیں۔ابا جان عبد الرحیم صاحب کو درویشی کی سعادت حاصل ہوئی اور زمانہ درویشی میں بھائی جی یا دیانت صاحب کے پیارے ناموں سے یاد کئے جاتے رہے اور خاکسار کے قادیان سے تعلق میں اس امر سے بھی اضافہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے متعدد مرتبہ قادیان جانے اور وہاں کی برکات سے استفادہ کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔بچپن کی یادوں میں حضرت مصلح موعود نہیں کی یاد سرفہرست ہے۔مسجد اقصیٰ میں آپ کے پر ولولہ خطبات ، مسجد مبارک میں مجالس علم و عرفان۔خدام الاحمدیہ کے اجتماعات میں تفسیری نکات 188