قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 166 of 365

قسمت کے ثمار — Page 166

اور سیرت سے اسی صورت میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ یہ سیرت ہماری زندگیوں میں داخل ہو جائے، ہمارے افعال و اعمال، ہمارے باہم معاملات ، ہماری باتوں میں سیرت مقدسہ کی پاکیزگی ود کشی نظر آئے۔اور ہم سے ملنے والے کو یہ کہنا پڑے کہ حضور صلی اینم کی محبت اور پیروی کی برکت سے احمدی دوسروں سے مختلف اور بہتر ہیں۔ہمار اطمح نظر صحابہ کرام کا طرز زندگی ہے جو حضور مالی ایلام کی قوت قدسیہ کی برکت سے آسمان کے ستاروں کی طرح روشن اور دنیا کی رہنمائی کا ذریعہ بن گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دو سلوک وہ ہے جو لوگ آپ عظمندی سے سوچ سمجھ کر اللہ اور رسول کی راہ اختیار کرتے ہیں جیسے فرما یا قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله آل عمران (32) یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننا چاہتے ہو تو رسول کریم صا الم کی پیروی کرو۔وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اٹھائیں کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام نہ پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور پر وہی ہوں گے جو اپنے متبوع کے ہر قول وفعل کی پیروی پوری جد و جہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔۔سالک کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ رسول کریم صل السلام کی مکمل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔‘“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 17 ) اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کو بیان کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی توفیق بخشے۔166 الفضل انٹرنیشنل (11 مارچ 2005ء)