قسمت کے ثمار — Page 155
تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے۔اس محبت کے بعد اطاعت امر اللہ کی خود بخود پیدا ہوتی ہے۔یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہئے۔یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے فطری اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔“ اسی طرح فرمایا: (روحانی خزائن جلد 20 لیکچر لدھیانہ ص 282) ”خدا کے ساتھ محبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے والدین، جورو، اپنی اولاد، اپنے نفس غرض ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جاوے“۔الحکم جلد 6 نمبر 19 مؤرخہ 24 رمئی 1902 ء ) پس حج بیت اللہ جو ایک اعلیٰ درجہ کی عاشقانہ عبادت ہے اور جس میں ایک حاجی گویا خدا تعالیٰ کے آستانہ پر پہنچ کر براہ راست اس سے مخاطب ہوکر لَبَّيْكَ الْهُمَّ لَبَّيْكَ کی صدائیں بلند کرتا ہے اس کا حج تبھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول ہوسکتا ہے اگر اس کی عملی زندگی اس کے اس زبانی اظہار پر گواہ ہو اور وہ کامل تقویٰ اور استی اور انصاف کے ساتھ ہمیشہ خدا کی رضا کو اپنے تمام تعلقات عزیز داریوں ، کاروبار، ملازمت، اموال و جائیداد غرضیکہ ہر دوسری چیز پر ترجیح دے۔اگر ایسا ہو تو یقیناً خدا تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کی مدد کو آتا ہے اور انہیں کبھی ذلیل ورسوا نہیں کرتا۔پس حج کے ان مبارک ایام میں ہمیں خصوصیت سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سب حج کرنے والوں کو بھی اس کی توفیق بخشے اور وہ جو حج پر خانہ کعبہ نہیں جاسکے وہ اپنی زندگیوں میں حج کے اغراض و مقاصد کو قائم کر کے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی سعی کریں۔ہم واقعۂ عید منانے کے حقدار تبھی ہوں گے جب ہمارا خالق و مالک ہم سے راضی ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی حقیقی عید میں نصیب فرمائے۔آمین الفضل انٹرنیشنل 21 جنوری 2005ء ) 00 155