قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 132 of 365

قسمت کے ثمار — Page 132

اپنے اوقات کو زیادہ مفید اور بہتر کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔سادہ زندگی کی عادت سے قربانی کے مواقع پر بہتر نمونہ پیش کرنا ممکن ہوگا جبکہ پر تکلف اور پر تعیش زندگی بسر کرنے والا شخص کسی بھی قسم کی قربانی پیش کرنے سے قاصر رہے گا۔حضور کا جماعت سے ایک مطالبہ وقف زندگی کا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ سنجیدہ مخلص اور پڑھے لکھے نوجوان اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں۔اس مطالبہ پر بھی جماعت نے قربانی کا شاندار نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ راہ آسان نہیں بلکہ دشوار گزار ہوگی۔اس راہ میں ایک دفعہ یا دو دفعہ قربانی پیش کرنے کی بجائے مسلسل زندگی بھر کئی قسم کی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی یا یوں سمجھ لیجئے کہ ایک دشوار گزار پل صراط پر زندگی بسر کرنا ہوگی۔دوسرے لوگ اپنی ملازمت کی ترقی ، اپنی تجارت کی بہتری، اپنی زمینداری و خوشحالی کی باتیں کریں گے تو ان کے پاس ایسی کوئی بات نہیں ہوگی مگر وہ نیکی و تقویٰ اور محنت ودیانت سے مفوضہ فرائض بجالائیں گے تو خدا تعالیٰ سے اجر پائیں گے اور سکون واطمینان اور قناعت کی دولت سے مالا مال ہوں گے۔حضرت مصلح موعود ہی لمحہ اس قربانی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ابھی تو آغاز ہے اور ہم اس معیار پر نہیں پہنچے جہاں ظلمت و تاریکی اور جہالت و تعصب سے بھر پور مقابلہ ہوگا۔اور جس طرح ایک بھٹیارن دانے بھونتے ہوئے اپنی بھٹی میں مسلسل ایندھن ڈالتی چلی جاتی ہے اسی طرح ہمیں جانی ومالی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی۔حضور بنی نہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جماعت کے مخلص نوجوانوں نے ہر چہ باداباد کہتے ہوئے یا محاورہ کے مطابق اپنی کشتیاں جلاتے ہوئے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔ان لوگوں نے بہت معمولی گزارے پر، بہت محدود ذرائع اور وسائل کے باوجود خدا تعالیٰ کے بھروسے اور امداد ونصرت کے بل پر ملکوں ملکوں اشاعت وتبلیغ اسلام کی مہم کو جاری کیا اور اپنے جذبات ہی نہیں، اگر ضرورت پڑی تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے بھی اس مہم کو آگے بڑھاتے چلے گئے۔132