قسمت کے ثمار — Page 111
جس میں جگہ جگہ روٹی پکانے والے تنور لگے ہوئے تھے جامعہ احمدیہ کوٹل گئی اور جامعہ احمدیہ کے اسا تذہ اور طالب علم اس اعزاز وسہولت پر خوش ہو گئے بالآخر ہم مرکز میں پہنچ گئے یہاں تک پہنچتے پہنچتے کچھ کتب کچھ چار پائیاں اور بستر بھی میسر آچکے تھے مگر ان کو رکھنے کے لئے جگہ بنانے میں ہر طالب علم نے اینٹوں ، روڑوں اور پتھروں کی مدد سے میز اور کرسیاں ایجاد کیں مگر بارش ہو جانے کی صورت میں عارضی کمرے اس کثرت سے ٹپکتے تھے کہ چھت کی مٹی سے بچنے کے لئے باہر بارش میں بھیگنا بہت لگتا تھا اور کتابوں وغیرہ کو چھپانے یا محفوظ کرنے کے لئے پانی رکھنے کی لوہے کی ٹینکیوں سے مدد لینی پڑتی تھی۔تحریک جدید کے پختہ دفاتر بن گئے تو جامعہ احمدیہ کو کچے دفاتر کی جگہ میسر آ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی کوشش ونگرانی سے ایک پختہ عمارت کرائے پر حاصل کی گئی اور جامعہ کی اپنی عمارت بھی تعمیر ہوگئی۔جامعہ احمدیہ کی یہ مختصر روئیداد اس لئے یاد آ گئی ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں جامعہ احمد یہ خوشمنا پھل اور پھول پیدا کر رہا ہے۔ربوہ میں قدیم جامعہ کے ساتھ وسیع پیمانہ پر جدید جامعہ بھی زیر تعمیر ہے۔غانا میں بھی جامعہ احمدیہ کی ایک شاخ بڑے وسیع پیمانے پر شروع ہو چکی ہے۔انڈونیشیا اور تنزانیہ کے بعد اب کینیڈا بھی اس نہایت بابرکت کام میں شامل ہو چکے ہیں اور حضور ایدہ اللہ نے مغربی افریقہ کے دورہ میں غانا کے علاوہ نائیجیریا میں بھی جامعہ احمدیہ کا معائنہ فرما یا اور واقفین زندگی کو نہایت قیمتی اور ضروری نصائح فرمائیں۔قادیان میں ایک سو سال پہلے بویا جانے والا یہ پیج ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوط اور شاخیں اکناف عالم میں پھیل چکی ہیں۔الفضل انٹرنیشنل 7 مئی 2004ء) 111