قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 100 of 365

قسمت کے ثمار — Page 100

بجادیں گے اور مینارہ مسیح کی اینٹیں دریائے بیاس میں بہادی جائیں گی۔‘ (نعوذ باللہ ) ایسے بلند بانگ دعووں کے ساتھ جو مخالفت شروع ہوئی اس میں اس وقت کی انگریز حکومت کے بعض افسران بھی یہ سمجھ کر شامل ہو گئے کہ اس طرح ہم ہندوستان میں قائم ہونے والی آئندہ کانگریسی حکومت میں اپنے مفادات حاصل کر سکیں گے۔اس طوفان کا رُخ موڑنے کے لئے حضرت مصلح موعود بنیان نے جماعت کے سامنے تحریک جدید کے نام کے سے ایک انقلابی پروگرام پیش فرمایا جس میں کہیں بھی یہ بات نظر نہیں آتی کہ اگر تم ہماری مخالفت میں حد سے بڑھ رہے ہو تو ہم تمہارے مقابلے میں اس سے بڑھ کر یہ کریں گے یاوہ کریں گے بلکہ اس کے بالکل برعکس آپ نے ؎ عدد جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں کا مبارک طریق اختیار کرتے ہوئے جماعت کو ایک روحانی دائی پروگرام کی طرف بلایا جس میں آپ نے جماعت سے متعدد مطالبات کئے۔جن میں سے ایک مطالبہ سادہ زندگی “ اختیار کرنے کا تھا۔حضور نے اس امر پر متعد د خطبات ارشاد فرمائے اور روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سادہ لباس استعمال کریں۔گوٹے کناری وغیرہ کا استعمال محدود کریں۔سونے کے زیورات کا استعمال محدود کریں۔کھانے میں سادگی اختیار کریں اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ کھانے استعمال نہ کریں۔وغیرہ یہ مطالبہ اتنا پر حکمت جامع اور مفید ہے کہ اس پر غور کر کے انسان حیران رہ جاتا ہے اگر مثال کے طور پر صرف کھانے کی سادگی کو ہی مد نظر رکھا جاوے تو آجکل کی ایک بہت خوفناک بیماری موٹاپے یا ضرورت سے زیادہ چربی پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ پر تکلف مرغن غذائیں اور ضرورت سے زیادہ کھانا ہی اس بیماری کا اصل اور بڑا سبب ہے اور اس بیماری کی وجہ سے اور کئی 100