قواریر ۔ قوامون — Page 79
<9 بیوی اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے بات المراةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوجِهَا ۱۸۵ - حَدَّثَنَا عَبْدَارُ أَخْبَرَنَا عَبُدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسى بن عقبة عن نافع عن ابن کے سَر عَنِ النّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ كُلُّكُم امل به والمس ان راعية على بَيْتِ ذَوجِهَا وَ وَلَدِهِ فَكَلتُم دا وَكُلِّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تم میں سے ہر ایک چہ وابا (نگران) ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگران ہے اور ہر آدمی اپنے گھر والوں کا نشان ہے اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگران ہے۔نہیں ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔(بخاری شریف کتاب النکاح) خاوند اپنے گھر کا نگران ہے الرجل راع على اهله وهو مسئول بنارى قوانفسكم وأهليكم نارا (كتاب النكاح مرد اپنے بیوی بچوں پر نگران ہے۔اور اپنی رعیت میں اپنے عمل پر وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔