قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 73 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 73

حدیث کی رو سے نبی کریم صلی اللہ علیک سلم نے اپنی ازدواج مطہرات سے انہیں دن کنار کئے رکھا جب کہ حفصہ نے راز کی کوئی بات حضرت عائشہ کو تباری تھی۔آپ نے غصے کی حالت میں ان سے فرما دیا تھا کہ میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔جب اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا اور انتیس دن گزر گئے تو آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لے گئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت عائشہ عرض گزار ہو نہیں۔یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی میں برابر شمار کرتی آرہی ہوں کہ ابھی انتین دن گزرے ہیں۔مایا۔جہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور وہ نہینہ انہیں ہی دنوں کا تھا۔حضرت عالیہ کا بیان ہے کہ پھر اللہ تعالے نے اختیار دینے والی آیت نازل فرمانی تو اپنی ازواج مطہرات میں سے آپ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے۔اور مجھ سے اختیار کرنے کے لئے فرمایا۔پھر اسی طرح تمام ازواج مطہرات سے فرمایا۔اور سب نے وہی جواب دیا۔جو حضرت عائشہ صدیقہ نے دیا تھا۔خاوند کی سکری کرنا بات كُفَوَانُ العَشِيرِ وَهُوَ الزَّوْتُ وَهُوَ الْخَليها مِنَ المُعاشرة فيه عَن أَبي سَعِيدِ عَن النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَم وَسَلَّم عشیرہ خاوند کو کہتے ہیں جو ساتھی ہے اور عشیر مشتق ہے معاشرہ سے حضرت ابوسعید نے حضور سے اس کی روایت کی ہے۔۱۸۲ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عطارين نِسَاءٍ عَن عَبْدِ اللهِ بن عَبَّاس أَنه قَالَ حَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَم يسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ فَيَا مَا طَوِيلاً تَحُوا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رَكُوهَا طَوِيلًا تم رَكَعَ فَقَامَ فَيا مَا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ القيامِ الأول تكع لا لا لا