قواریر ۔ قوامون — Page 61
سلوک اگر اس حکم الہی کے واسطے ہے تو موجب برکات ہے۔۔۔۔مومن کی عرض ہر آسائش ہر قول و فعل حرکت و سکون سے گو بظا ہر نکتہ چینی ہی کا موقعہ ہو مگر در اصل عبادت ہوتی ہے۔بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے۔مگر خدا کے نزدیک عبادت ہوتی ہے لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہو۔تو نماز بھی لعنت کا طوق ہو جاتی ہے۔۔۔۔اس طرح عاشور بالمعروف کی بجا آوری سے تو اب ہوتا ہے۔ثواب ۸ ۹ عث مورخ ۱۰ مارچ شدند ر حکم جلد ه عهد مو انسان کے اخلاق کا پہلا امتحان اس کا بیوی سے سلوک ہے بیوی اسیر کی طرح ہے۔اگر یہ عاشر دهن المعروف به عمل : اے۔لود۔الیسی قیدی ہے جس کی کوئی جبر سننے والا نہیں۔الحاکم جلد ۸ عش مورخه دار ماست هست نہ (حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعد علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا )۔باعث تکلیف دی ہے کہ میں نے آپ کے بچے دوستوں کی زبانی جو در حقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں، ثنا ہے کہ امو بہ معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہیئے۔کس قدر آپ شدت رکھتے ہیں۔یعنی غیظ و غضب کے استعمال میں بعض اوقات اعتدال کا اندازہ ملحوظ نہیں رہتا۔میں نے شکایت کو تعجب کی نظر سے نہیں دیکھا۔کیونکہ اول تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات حمیدہ کے قائل اور دلی محبت آپ سے رکھتے ہیں۔اور دوسرے چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسّام ازل نے دے یکھی ہے۔اور ذرہ ذرہ کی باتوں میں تادیب کی نیت سے با غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ خدا تعالے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت علم اور برداشت کی تاکید کی ہے۔اس لئے