قواریر ۔ قوامون — Page 55
۵۵ قرير الي و كرها وَلا تَعْضُلُوهُنَّ تَذْهَبُوا بِبَعْضٍ مَا اتية مُرُهُ قَالَ كَانُوا إِذَا مَاعَ الرجُلُ كَان أولياره احق بالمراتِه إِن شَاء بَعْضُهُم احن بها من أهلِهَا فَتَزَلَتْ هَذِهِ الأَتِه فِي ذلِكَ۔حکمہ اور ابوالحسن ہوائی دونوں حضرات نے الگ الگ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ آیت در اے ایمان والو تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے نہ یہ دستی وارث ! بن جاؤ اور عورتوں کو نہ رو کو اس مرض سے کہ جو مہران کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے اور آیت 14) کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے ہیں جب آدمی مرجاتا تو اس کی بیوی کے زیادہ حقدار اس کے وارث بھی شمار کئے جاتے تھے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اسے اپنی زوجیت میں سے لیتا اور اگر وہ چاہتے تو اسے کسی دوسرے کے نکاح میں دیتے اور اگر وہ چاہتے تو کسی سے اس کا نکاح نہ ہونے دیتے ہیں اس کے والد نوں سے زیادہ اس کے حقدار شمار کئے جاتے تھے۔پس مذکورہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے۔رصحیح بخاری شریف - کتاب النکاح) حضرت مسیع مواد در آپ پر سلامتی ہوا فرماتے ہیں : یعنی تمہارے لئے جائز نہ ہوگا کہ خیبر عورتوں کے وارث بن جاؤ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۲۵) توجه و تغییر ان انگریزی تفسیر کبیر مختلف طریق سے مرد نہ بر درستی عورتوں کے وارث بن جاتے ہیں۔ا ایک مرد اپنی بیوی کو پسند نہیں کرتا۔اس سے اچھا سلوک نہیں کرتا۔لیکن پھر بھی اس کو طلاق نہیں دیتا۔اس امید پر کہ بیوی کی موت کے بعد اس کی جائیداد کا وارث ہو کر وہ اس پر قابض ہو جائے گا۔وہ اپنی بیوی سے اچھا سلوک نہیں کرتا۔اور اپنی بے رحمی سے اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کو اپنی پوری جائیداد کا کچھ حصہ دے کہ۔یا پھر اپنا مہر معاف کر کے اس سے خلع لے لے۔ایک بیوہ کے متوفی خاوند کے رشتہ دار اس کو نکاح ثانی سے روکتے ہیں تاکہ اس