قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 56 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 56

۵۶ کی موت کے بعد وہ اس بیوہ کی جائیداد پر قبضہ کر کے وارث بن جائیں۔یا پھر بیوہ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ متوفی خاوند کے رشتہ داروں میں سے ہی کسی کے ساتھ نکاح کرے۔گویا در متوفی کی ہیں نہیں بلکہ اس کے ترکہ کا حصہ ہے۔خاوند بیوی کی جائیداد پر توبہ دستی قابض ہو جاتا ہے۔گویا وہ اس کا قانونی حق ہے۔مستوفی خاوند کے رشتہ دار اس کی بیوہ کی جائیداد پر زبر دستی قبضہ کر لیتے ہیں اور اس طرح اس کو وراثت کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔متوفی خاوند کے رشتہ داروں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس کی بہو کو نکاح ثانی سے۔دیگر اس نیت سے کہ ان کی جائیداد پر ورقیقہ کر سکی لیکن وہ اس صورت میں اس کو روک سکے۔ہیں۔اگر وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ نکات کرا یا ملتی ہو۔ہر کھلی کھلی بڑائی کا مرتکب ہو۔اگر اس آیت میں مخاطب مرد ہیں۔تو پھر اس کا مصب یہ ہوگا کہ اگر زیر یاں اپنے خاوندوں ے ساتھ نہیں بنا چاہتیں۔اور وہ میری چاہتی ہیں کہ ان کے ذریعے سے وہ حاصل رکتی ہے۔تو خیر خاوندوں کو ان کے پیسے کی رائے کی وجہ سے انہیں خلع لینے سے روکا نہیں دیا سینے میں ان کو اس صورت میں روک سکتے ہیں اگر عورتیں کی کیسے کیسے نا وافعال کی تب ہوں۔عورتوں کے ساتھ روکھا برتاؤ نہیں کرنا چاہیئے رو دَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ " اور ان سے اچھا سلوک کرو میں اسلامی تعلیم کا خاصہ عورتوں کے متعلق پیش کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے عورتوں کے ساتھ خشک اور روکھے پین کار دیر نہیں رکھنا چاہیئے۔بلکہ محبت اور شفقت سے پیش آنا چاہئیے۔رسول کریم , صلی اللہ علیہ سلم فرماتے ہیں۔خَيرُكم خيرك و لا هله تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ بہتر ہے (ترندمی) لیکن چونکہ یک طرفہ معامل فی الحقیقت کا میاب نہیں ہوا کرتا اس لئے قرآن کریم میں آیا ہے۔عاشر دُھن اُن کے ساتھ جو کہ رعایت باہمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔بصورت اور مرد دونوں کو یہ حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت تلطف اور خوش خلقی