قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 50 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 50

تبدیلیاں پیدا ہوگئیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو خدا تعالے نے پاکر تعلیم دی۔اور آپ نے اس کے مطابق نمونہ دکھایا۔اس کے نتیجے میں جو نئی سوسائٹی وجود میں آئی ہے۔اور عورتوں نے مردوں کے برابر اپنے آپ کو سمجھا۔اور اپنے حق کو برابری کے ساتھ وصول کیا ہے۔اس سے پہلے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔یہ بات کہ کوئی عورت اپنے باپ کے مقابل پر کھڑی ہو کہ اپنا حق مانگ رہی ہو۔یا کسی غیر سے اپنا حق مانگ رہی ہو۔وہ بے چاری مظلوم چیز تھی۔ورثر میں بانٹی جایا کرتی تھی۔چنانچہ اسی واقعہ کے متعلق قرآن کریم کی پہلی آیت جو میں نے پڑھ کر سنائی تھی جس میں ذکر تھا کہ اگر تم مطالبے کہ تیرہوگی۔توپھر میں تمہیں بہت مال دولت دے کر پوری طرح راضی کر کے رخصت کر دیتا ہوں۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ عرصے کے لئے ان کو سمجھانے کی خاطر علیحدگی بھی اختیار کر لی اس وقت ان ازواج مطہرات کے والدین حین کو یہ معلوم ہوا۔ان کو سمجھانے کے لئے اپنی اپنی بیٹیوں کے پاس پہنچے۔حضرت ایوبکر اور حضرت عمرہ کا ذکر ملتا ہے کہ خاص طور پر انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت حفظہ کو سمجھانے کی کوشش کی اپنی طرف سے پھر وہ حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے۔تو انہوں نے جواب دیا۔کہ آپ حضرات کا یہاں کام کیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔اگر آپ سمیں منع کرنا چاہیں۔تو جس چیز سے چاہیں آپ منع کر سکتے ہیں۔اگر ہم رسول اللہ سے مطالبہ مذ کریں تو کس سے کریں، ابھی تک یہ حال تھا۔کیا آپ حضرات اپنی بیویوں کے معاملات میں کسی دوسرے کا دخل پسند کرتے ہیں۔اگر نہیں تو یہاں سے تشریف لے جائیں۔آپ کا کوئی کام نہیں۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی بیویوں کے در میان دخل اندازی ہے۔یہ بات کسی عرب کے تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی۔اسلام سے پہلے کہ اس خرج عورت کھڑی ہو کر مرد کو مخاطب ہوسکتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عمرہ کی اپنی بیوی سے ایک معاملہ میں اختلاف رائے ہو گیا۔ان کی بیگم حضرت عاتکہ نماز کی بہت شائق تھیں۔اور نمانہ با جماعت کی تو ان کو عادت پڑ چکی تھی۔وہ رہ ہی نہیں سکتی تھیں نماز با جماعت کے بغیر۔اور پانچ وقت عورت ایک گھر سے نکلے جب اس پر یہ فرض بھی نہ ہو۔اور پانچ وقت مسجد میں پہنچے۔تو پیچھے گھر کی ضروریات کا کیاحال ہوتا ہوگا۔