قواریر ۔ قوامون — Page 29
۲۹ خطاب لجنه إماء الله جل سالانه وام یو کے لنڈن قوام، اصلاح معاشرہ کیلئے ذندار شخص کو کہا جائے گا حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں۔مرد عورتوں پر قوائم ہیں۔کیونکہ خدا تعالے نے لمبیض کو بعض پر بعض پہلوؤں میں فضیلت بنتی ہے۔اس وجہ سے بھی وہ قوام ہیں۔کہ وہ گھر کو لانے میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔الرِّجَالُ قَومُونَ عَلَى الستان کا ایک معنی یہ کیا جاتا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم بنائے گئے ہیں۔اور ما فضل اللہ کا ایک معنی یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالے نے ان کو ہر پہلو سے عورت پر ایک فضیلت بخشی ہے۔چنانچہ اہل مغرب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے یہ پنہ چلتا ہے۔کہ خدا تعان نے مرد کو بنایا ہی ہر پہلو سے بہتر ہے اور اس وجہ سے وہ عورت پر حکم چلانے کا حق رکھتا ہے حالانکہ دونوں جگہ معنے غلط کئے گئے ہیں۔سب سے پہلے تو لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔قوام کہتے ہیں۔ایسی چیز کو۔جو اصلاح احوال کرنے والی ہو۔جو درست کرنے والی ہو۔جو ٹیڑھے پن اور کچی کو صاف سیدھا کرنے والی ہو۔چنانچہ قدام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔پس وعُونَ کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اقول ذمہ داری مرد وں پر ڈالی گئی ہے۔اگر وہ تو کامعاشرہ بگڑ جائے۔ان میں کجر دی پیدا ہو جائے۔ان میں آزادیوں کی ایسی رو چل پڑے۔جو اسلام کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہوں۔تو عورت پر روش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منڈال کر دیکھیں۔کیو کے خدا نے ان کو نگران مقرر کیا تھا۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلے میں ادا نہیں کیں۔بمَا فَضَّلَ الله بَعْضَهُم على بعض میں خو انسان نے جو بیان فرمایا ہے۔وہ یہ ہے کہ خدا تعالے نے ہر تخلیق میں کچھ فی فضیلتیں ایسی رکھی ہیں جو دوسری تخلیق میں نہیں ہیں۔اور