قواریر ۔ قوامون — Page 28
۲۸ بعض فتنہاد کا خیال ہے کہ وضو کی حالت میں اگر مرد کسی محرم کو چھوٹے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔مگر بعض کا عقیدہ ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اب اگر عورت کا یہ مذہب ہو کر وضو ٹوٹ جاتا ہے تو خاوند کا فرض ہے کہ اس کو دینو کی حالت میں چھوٹے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس کے عقیدہ یا مذہب میں وضل دے ہیں عورت کو اپنے عقائد میں کامل تربیت دینی ہوگی۔ہاں عقل یا دل کے معاملات کی ہم کے واہ نہیں کریں گے۔مثلاً اگر کوئی عورت یہ کسے کہ میری عقل کہتی ہے یا میرا دل چاہتا ہے کہ فلاں بات یوں نہ ہو تو اس کا احترام لازمی نہیں۔جب نگداتے ان باتوں کی پروا نہیں کی توسیم کیوں کریں۔یہیں یہ اصول صرف شریعت کے عقائد کے تعلق ہے۔اس طرح حیض کے متعلق بھی مسلمانوں کا اختلاف ہے کیونکہ بعض کا خیال ہے کہ عورت کے ساتھ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرنے سے قبل نحجت جاتا ہے بشر ہوش کے نزدیک غسل کے بعد جائز ہے اگر عورت کا یہ عقیدہ ہو کر غسل سے قبل صحبت نا جائز ہے تو مرد کا فرض ہے کہ اس کے پاس نہ جائے جس طرح عورت کا فرض ہے مرد کے مذہب کا پاس کرے۔اس طرح مرد کا بھی فرض ہے کہ عورت کے عقائد کا لحاظ کرے۔میں عورت کو تربیت حاصل ہے اگر اس کو مٹاؤ گے تو وہ تم سے ایسی حریت کا مطالبہ کریں گی جو شریعت نے ان کو نہیں دی۔تم اگر خدا کے انعام حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے معاملات کو درست کرد اور عورتوں کو کامل تربیت دو۔اور ان کے حقوق ادا کرو۔والفضل ۲۲ اپریل ۱۹۲۷ ص ۵) دفرموده ۱۵ اپریل ۱۶۱۹۲۷