قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 27 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 27

۲۷ مر عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔اگر کوئی مرد ایسا کرے تو بی کافی وجہ خلع کی ہوسکتی ہے۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر دقت کی تعیین اور اجازت مرد کا حق ہے۔شنگا خاوند یہ کہہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کو مل لینا یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلا سے یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے مگر جس طرح مرد اپنے والدین کو ملتا ہے۔اس طرح عورت کا بھی حق ہے سوائے ان صورتوں کے کہ دونوں کا سمجھوتہ ہو جائے مثلاً جب فساد کا اندیشہ ہو یا فتنے کا ڈر ہو۔مرد تو پہلے ہی الگ رہتا ہے۔مگر عورت خاوند کی مرضی کے خلاف باہر نہیں جا سکتی ہاں ناوند اگر ظلم کرے تو قاضی کے پاس وہ شکایت پیش کر سکتی ہے لیکن اگر خاوند اس ہیں روک ڈالے اور گھر سے باہر نہ نکلنے دے تو پھر وہ گھر سے بلا اجازت با ہر نکل سکتی ہے مگر راس کا فرض ہے کہ جلد ہی مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کر دے تا قاضی دیکھ لے کہ آیا اس کے باہر نکلنے کے کافی وجوہ ہیں یا نہیں۔پھر وہ اس کو خواہ با ہر رہنے کی اجازت دے دے یا گھر میں واپس لوٹنے کا حکم دے۔پس اگر خاو ظلم کرتا ہو اور حقوق میں روک ڈالتا ہوا در قضاء میں جانے نہ دے تو اگر ظلم پھر عورت بلا اجازت شوہر باہر نکل سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ قلیل ترین عرصہ میں وہ اس کے خلاف آواز اُٹھائے اسلام یہ گھنٹے کے اندر یا اگر مقدمہ عدالت میں ہو تو جنت عرصہ درخواست کے دینے میں عمر کا لگتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ بالکل غلط طریق رہا ہے کہ عورت خاوند سے لڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے۔والدین اس کی ناحق طرف داری کرتے ہیں اور فساد بڑھتا ہے دونوں کا معاملہ شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔عورت بحیثیت انسان الیسی ہی انسان ہے جیسے مرد۔وہ اپنے دین ایمان اور حریت میں ایسی ہی قائم ہے جیسے تم۔مثال کے طور پر میں بعض عقائد کا ذکر کرتا ہوں جن میں عورت کے مذہب کا احترام لازمی ہے۔