قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 48 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 48

خود امہات المومنین سے ایسی باتیں سرزد ہوتیں۔جس کے متعلق قرآن کریم نے اس آیت میں ذکر فرمایا۔يَايُّهَا النَّبِيُّ قُلُ لا زَوَاجِكَ إِن كُنتُنَ تُرِرْنَ الْحَيدَةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا W قنعا لين امتحكُنَ وَأُسَحْكُنَّ سَرَاحَا جَمِيلًا۔(سورۃ احزاب آیت (۲۹) طلاق تک نوبت آگئی۔ایسے مطابے تھے۔کہ جو نا جائز تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا تعا نے نے یہ تعلیم ہی کہ ساری بیویوں کو بلاؤ۔اور ان سے کہ دو کہ اگر تم نے مطابے کرتے چلے جانا ہے۔تو پھر خشک ہے۔گھر کا ماحول خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔آؤ میں تم کو اموال سے لاد کر رخصت کرتا ہوں لیکن پھر میرے ساتھ نہیں رہنا تم نے کیونکہ میری ایسی ذمہ داریاں ہیں۔بین کو ادا کرنے کے لئے میں ایک خاص قسم کی زندگی اختیا۔کرنے پر مجبور ہوں۔لیکن عورت کو اس حق سے محروم نہیں کیا۔کہ وہ اچھے ماں میں رہے۔فرمایا ٹھیک ہے تمہیں اختیار ہے۔اگر اچھا حال اختیار کرنا ہے۔تو میں تمہیں دولت دیتا ہوں۔نا راضگی کی کوئی بات نہیں۔مجھ سے رخصت ہو جاؤ پھیر قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسی باتیں عنبی ہوئیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے اک راز کی بات اپنی کسی نہ وجہ محترمہ کو تیائی۔اور انہوں نے اس رانہ کو دوسروں پر ظاہر کر دیا۔بما حفل اللہ کے خلاف بات ہے بظاہر اور پھر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امانت اس سے زیادہ مقدس امانت اور کیا ہوسکتی ہے۔اس کے نتیجے میں بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کوئی سخت کلامی نہیں کی۔مار نا تو درکنار۔چنانچہ آپ نے انہیں صرف اتنا بتایا کہ تم نے یہ دانہ ظاہر کر دیا ہے۔و حلما ناهَا بِهِ قَالَتْ مَن أنهَاكَ هذَا قَالَ بباقى العليم الخبير (سورة تحرير آیت ۴) جب آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو بتایا کہ جو میں نے راز بتایا تھا۔تم نے ظاہر کر دیا۔اس - کے سوا کچھ نہیں کہا۔انہوں نے جو ایا یہ کہا۔آپ کو کس نے بنا دیا ہے۔ان کو یہ خیال آیا شاید کر عورتوں کو اگر کہا جائے کہ یہ بات نہیں بتائی تو وہ ضرور بتاتی ہیں۔یا شاید اسی خیال کی وجہ سے انہوں نے پوچھا ہوگا کہ ضرور اس نے بتادی ہے۔لیکن کسی نے نہیں بینائی متحد اللہ تعالے