قواریر ۔ قوامون — Page 81
M حضرت ابو ہر یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی مسلمان مرد کسی بھی مسلمان عورت کے لئے کینہ یا عداوت نہ رکھے۔اگر اس کو اس کی کوئی بات نا پسند ہے۔تو اس کو اسی میں ہی کوئی اچھی بات مل جائے گی ومسلم) بیوی کا ناراض ہو کرات بھر خاوند کے بستر سے الگ سونا باب إذا بَاعَتِ المَرَاةُ مُهَا جَرَةً فَراشَ نَدْحِهَا۔۱۷۸ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْن أَبِي عَدِي عَنْ شُعَبَةٌ عن سُلَيْمَانَ عَن أبي حازم عن ابي مقر مَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وسلم قَالَ إِذَا دَعَا الرجل امراة إلى فَرَاشِهِ فَابَتْ أن تحى ولعلها الملكة حتى تصبح ( صحیح بخاری شریف) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے لیکن وہ آنے سے انکار کر دے تو صبح یک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ٧٩ حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن عَن عُوا حَدَنَابَةٌ عَن فَتَاوَة عَنْ - وَةٌ ندارَ وَ عَن ابي هريرة قالَ قَالَ الليُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَاتِ المَرأَةٌ مُهَاجِرَةً فَراشَ زَوْجِهَا لَعَنَتُهَا الْمَلَئِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عورت اپنے خاوند کے بستر پر آنے سے انکار کر دے تو اس پر فرشتوں کی لعنت ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔( صحیح بخاری شریف) بیوی کا فرض لا تؤدى المر أحَنَّ رَيْهَا حَتَّى تُوَى نَوحِيهَا (ابن ماجہ) کوئی موت خداتعالے کا حق در کروالی کبھی نہیں سکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی۔