قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 54 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 54

۵۴ جبرا وارث بننے کا مفہوم اور اس کی ممانعت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُوَانَ تَرِثُوا النِّسَاء كَرِهَا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ اِذْهَبُو بِبَعْضِ ما أتيتموهن إلا أن تأمين بِفَاحِشَةٍ بَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُونِ فَإِن كَ هُتُمُوهُنَّ فَعَسى أن تكرهوا شيئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كثيرًا۔رسورة اد آیت نمبر ۲ ترجمہ ہر اسے ایماندار و تمہارے نے یہ بائر نہیں کہ تم زیر دستی عورتوں کے دارت بن جاؤ۔اور تم انہیں اس غرض سے تنگ نہ کہ دو کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے۔اس میں سے کچھ چھین کر لے جاؤ۔ہاں اگر وہ کسی کھلی کھلی بدی کی مرتکب ہوں تو اس کا حکم اوپر گزر چکا ہے اور ان سے اچھا سلوک کرد۔اگر تم انہیں ناپسند کرو۔تو یاد رکھو کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرد۔اور اللہ اس میں بہت سا بہتری کا سامان پیدا کر دے۔لا يحل لله إن تولو النساء فى تفسیر حدیث بخاری شریف میں یوں بیان کی گئی ہے باب ۶٣٥ - قوله لا عمل لكم أن ترثوا النِّسَاء كَرها الاية و يَذكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ لا تَعْضُلُوهُ لا تَجَرُوهُنَّ حُوبًا اثما تَعُولُوا تَمِلُو نِحْلَةُ النَّحْلَةُ المَهم۔تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے زبر دستی وارث بن جاؤ (آیت (۲۰) ابنِ عباس سے منقول ہے کہ لا تعض دُودھن سے مراد ہے کہ ان کے ساتھ زبردستی نہ کر دمحوباً گناہ تخولو تم ایک جانب جھک جاد يخلة سے مراد ہے مہر النحلة ١٩٩٣ حد احمد بن مقاتلي حدثنا أسباط بن محمد حدثنا الستَيْبَا فِى عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّيْبَانِي وَذَكَرَهُ أَبُو الْحَسنِ التَوالي ولا احلتُه وكَرَهُ الأَنِ ابنِ عبا من يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُو لَا عَمِيل تكوان