قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 37 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 37

☑ بینہ دہی حقوق ہیں جو مردوں کے لئے ان پر ہیں۔بِالمَعُودُنِ۔عام دنیا وی عقل اور مناسبت کے اعتبار سے جو بھی برابر حقوق ہونے چاہئیں۔میاں بیوی کے وہ دونوں کو اسی طرح میں گے حالانکہ والرجال میں "و" حالیہ معلوم ہوتی ہے۔یعنی یہ بیان کرنے کے لئے باوجود اس کے، حالانکہ وللرجالِ عَلَیهِ دَرَجَة " ہم پہلے بھی کہ بہتے ہیں کہ مردوں کو ایک پہلو سے عورتوں پر ایک فضیلت بھی حاصل ہے۔لیکن فضیلت کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے۔کہ ان کے حقوق میں فرق پڑ گیا ہے۔وہ پھر فرمایا هن لباس لكم وَ انْتُمْ لِبَاس لَهُنَّ تم ایک دوسرے سے حقوق میں اور ذمہ داریوں میں اس طرح بالکل برا بر ہو گویا تم ان کا لباس ہو۔اور وہ تمہارا لباس ہیں۔اس کی تشریح کا اس وقت وقت نہیں۔ورنہ یہ آمیت بہت ہی لطیف مضامین پرمشتمل ہے۔جہاں تک آج کے مضمون کا تعلق ہے۔اتنا ہی کہنا کافی ہے۔کہ لباس کی جتنی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔مرد کو عورت کے لئے ادا کرنا ہوں گی۔اور عورت کو خاوند کے لئے ادا کرنا ہوں گی۔علیحدگی کی مد میں اولاد کی تقسیم کے حصول میں بھی مساوات ہے پھر فرمایا لَا تُضَارَ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَولو له پولدہ۔اگر آپس میں اختلاف پیدا ہو جائے۔علیحد گیوں کے مواقع پیش آئیں۔تو فرمایا۔ہرگز کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیا جائے گا جس کے نتیجے میں والدہ کو اپنے بیٹے کے ذریعے سے دُکھ پہنچایا جائے درکا مولود له بولدہ نہ ہی والد کو اس کے بیٹے کے ذریعے سے کوئی دکھ پہنچایا جائے گا اور اس تعلیم میں بھی دونوں کو بالکل برابر کر دیا۔اس کے مقابل پر اب ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر قوموں میں یا دیگر مذاہب میں عورت کے متعلق کیا ذکر ملتا ہے۔پہلی بات اس ضمن میں پیش نظر یہ رہنی چاہیے۔کہ جب بھی مغربی دنیا میں اس مضمون پر بحث اٹھتی ہے تو عموما ایک مغالطہ آمیزی سے کام لیا جاتا ہے اور وہ مغالطہ آمیزی یہ ہے کہ مغربی تہذیب کو اسلام کے مقابل پر پیش کیا جاتا ہے۔حالانکہ مغربی تہذیب کوئی مذہب نہیں ہے۔اسلام ایک مذہب ہے اگر فوقیت