قواریر ۔ قوامون — Page 36
آئے یہ مجھ سے روٹھ گیا ہے۔چلولبس کریں۔اب لڑائی جھگڑا ختم کر دیں۔فرمایا اس کے باوجود اگر پھر بھی عورت اپنے سابقہ بد خلقی کے رویہ پر قائم رہے۔اور ہاتھ اٹھائے یاتمہارے خلاف بغاوت کرنے میں پہل کرتی ہے۔واضر کوھن۔پھر ان کو مارو۔اس کے سوا اور کیا تعلیم ہو سکتی تھی۔اس کو کوئی بدل کے دکھائے یا خدا کہتا کہ پھر پولیس کے حوالہ کر دو۔حوالات میں پہنچا دو۔یعنی جہاں عائلی زندگی کی حفاظت کی جاتی ہے۔وہاں مرد کو تو دوسروں کے سپرد کیا جا سکتا ہے لیکن عورت کو سپرد کرنا اس کی سب سے بڑی تذلیل ہے۔اور اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ ہی نہیں۔بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ محلے کے مردوں کو بلاؤ، اور وہ تمہاری بیوی کو ماریں۔یا پولیس کے سپرد کر دو۔وہ ڈنڈے چلا میں فرمایا ہے۔ان سب باتوں کے با وجود پھر تم خدا تعالی کی طرف سے فیصلہ کرنے کے مجاز ہو گے کہ اس حد تک اس سے محنتی کرد کہ اس کی اصلاح ہو لیکن ان شرطوں کے ساتھ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ کم نے بیان فرمائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ کم کی جو تعلیم ہے۔وہ ہیں نے اکٹھی کر دی ہے۔اسلامی تعلیم کا جو خلاصہ اس آیت کی رو سے ہے وہ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔اسلامی تعیتی میں ی عدم مساوا کے اعتراض کا جواب اور جو یہ کہا جاتا ہے۔کہ اس میں عدم مساوات کی تعلیم ہے۔یہ بالکل غلط ہے۔اور بے بنیاد ہے۔اور قرآن کریم کی دوسری آیات کے مضمون کے بالکل منافی ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَة یعنی جو فرمایا تھا ان کو فضیلت دی گئی ہے۔اس مضمون کو دوسری طرح بیان فرمایا کہ والرِّجَالِ عَلَي من درجة۔ان کو ایک قسم کی فوقیت حاصل ہے۔لیکن اس فوقیت کے باوجود ان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں۔اور بعینہ مردوں کے حقوق عورتوں کے حقوق کے برابر ہیں۔چنانچہ فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ عورتوں کے حقوق کے لئے