قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 30 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 30

بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔قوام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا اس میں ذکر فرمایا گیا ہے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہر پہلو سے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔بلکہ فرمایا بِمَا فَضَّلَ الله بعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ۔ایک عمومی اصول جاریہ کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔اور اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں بار بار دوسری جگہ پر بھی ملتی ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ ہم نے بعض کو بعض پہلوؤں سے دوسروں پر فضیلت بخشی ہے۔اس پہلو سے جب ہم لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔تو قوام کے ایک معنی طاقتور کے بھی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جسے صنف لطیف کہا جاتا ہے۔اور اہل یورپ بھی اسے اسی طرح یاد کرتے ہیں۔) قومی کی مضبوطی کے لحاظ سے عورت کی نزاکت کے مقابلے میں مرد قوام کہلاتے ہیں۔راس میں ایک نزاکت پائی جاتی ہے اور مرد کو ایک قومی کی فضیلت مضبوطی کے لحاظ سے عورت پر عطا کی گئی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو آج اہل مغرب سالانہ جبری بڑی عالمی کھیلیں منعقہ کرتے ہیں۔ان میں عورتوں کی کھیلوں کا الگ انتظام کیوں کرتے ہیں۔مردوں کے ساتھ کیوں نہیں دوڑا دیتے بین الاقوامی کھیلیں ہوتی ہیں اس میں SHORT PUT جو ہے۔وہ بھی عورتوں کا مردوں کے ساتھ ہوتا چاہیے۔ان کی دوڑیں بھی ان کے ساتھ ہونی چاہئیں ، ان کی کشتیاں تھی۔ان کی باکسنگ بھی۔اگر وہ قرآن کو تبھلارہے ہیں۔تو زبان سے نہ جھٹلائیں۔عمل سے جھٹلا کر کھائیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر WOMEN LIB کی ساری دنیا کی اجتماعی طاقتیں بھی اکٹھی ہو جائیں تو اس کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔اس لئے جو واقعاتی بیان ہے۔اس پر چیں بجبیں ہونے کی ضرورت کی کوئی نہیں۔کسی کو حق ہی نہیں پہنچتا۔بیا ہے ہوئے مردوں کی پسندیدہ آیت الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ یہ آیت رہا ہے ہوئے مردوں کو بہت اچھی لگتی ہے۔اس کا معنی یہ ہے کہ مردوں کو چاہیئے اپنی بیویوں کے محافظ اور اُن کی درستی اور ٹھیک رکھنے کا موجب بنیں۔بما فضل اللہ کیونکہ مردوں کو خدا نے اس قسم کی لیاقتیں اور موقعے بجتے ہیں۔"