قواریر ۔ قوامون — Page 25
۲۵ کو موثر بنایا ہے۔یعنی یہ اثر ڈالنے والا ہے اور عورت اثر کو قبول کرنے والی ہے۔یہ ایک مجنہ دی فضیلت اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر دی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں یہ فضیلت دی ہے کہ تم اثر اندازہ ہو۔اور عورت چاہے بیوی ہو۔چاہے بیٹی ہو۔چاہے ماں ہو تمہارے اثر کو قبول کرتی ہے۔اور اس کے نتیجہ میں بہت سے ایسے اعمال بجا لاتی ہے کہ اگر تمہارا اللہ غلط ہو گا تو اس کے وہ اعمال بھی درست نہ ہوں گے۔فرمایا جو کر قوام اور موثر ہونے کا نظام نہیں عطا کیا گیا ہے۔اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں کہ تم اپنی ذمہ داری کو اسی وقت نبھانے والے ہو گے جب وہ عورت ہیں جو تمہارے اثر کے نیچے ہیں۔الصلاعات ہوں۔قائنات ہوں۔حافظات للغیب ہوں۔اگر تمہارے اثر کے نیچے آنے والی عورت صالحہ نہیں۔اگر وہ قانتہ نہیں۔اگر وہ غیب کی حفاظت کرنے والی نہیں تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ تم یہ جو قوام کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی۔تم نے اسے نبھایا نہیں اور اس کے لئے تم ہمارے سامنے جواب دہ ہو گے۔اس لئے ڈرتے ڈر نے اور بڑی اختیاط کے ساتھہ اپنی زندگی کو گزاره و تا اللہ تعلی کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہو اور اس کی نعمتوں اور اس کے فضلوں اور اس کی برکات کو حاصل کرنے والے ہو (الفضل ۲۷ اگست ۱۹۸۶ء ص۳) ر خطبہ نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد خلیفة المسیح الثالث) حضرت مصلح موعود نے فرمایا ہے۔و جس طرح مردوں کے حقوق ہیں۔اس طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں خدا کے نزدیک دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔جس طرح مرد خدا کا بندہ ہے اس طرح عورت خدا کی بندی ہے۔جیسے مرد خدا کا غلام ہے ویسے ہی عورت خدا کی لوناری ہے۔پیسے مردم آزاد اور تر ہے ویسے ہی عورت آزاد ہے۔دونوں کو حقوق حاصل ہیں۔عورت گائے یا بھینس کی طرح نہیں کر لیا اور باندھ لیا۔انسانیت کے لحاظ سے عورت ویسی ہی ہے جیسے کوئی مرد۔آزادی ایک قیمتی چیز ہے جس سے