قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 17 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 17

یہاں پر بستر کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف توحید دبائی گئی ہے کہ نافرمان بیویوں کو گھروں میں ہی رہنا چاہیے اور ان کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے اور نہ ہی ان کو گھروں سے نکالا جائے۔اس آیت میں جو پابندیاں لگائی گئی ہیں۔وہ غیر محدود مدت کے لئے ہر گز نہیں ہیں کیونکہ سورة النساء آیت ہوا میں بیویوں کو گالمُعَلَّقَتِ چھوڑنے سے منع فرمایا ہے قرآن کریم کے مطابق ازدواجی تعلقات سے اجتناب کی حد زیادہ سے زیادہ چار ماہ ہے۔یعنی عملی زندگی کے نئے ردیکھیں سورۃ البقرہ آیت ۲۲۷) اگر خاوند یہ سمجھتا ہے کہ معاملہ کافی سنگین ہے تو ان شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔جو سورۃ النساء آیت 14 میں بیان کی گئی ہیں۔راس آیت میں جہاں تک مارنے کا ذکر ہے۔ایک حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیک و شرماتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کو اپنی بیوی کو مارنا پڑے تو مار ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کے ساتھ جسم پر کوئی نشان پڑے۔(ترمذی باب مردا) ابو داؤد اور نسائی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیکہ تم نے عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے لیکن جب حضرت مریعنی اللہ تعالے عنہ نے یہ شکایت کی کہ وہ سرکش ہوگئی ہیں۔تو آپ نے مارنے کی اجازت دی لیکن اوپر کی بتائی ہوئی شرط کے ساتھ لیکن پھر جب عور توں نے اپنی بدسلوکی کی شکایت کی تو آپ نے ناپسندیدگی کا انتباہ کیا اور کہا کہ جو مرد اپنی بیویوں کو مارتے ہیں وہ یقینا اچھے لوگوں میں سے نہیں Ki ) ایک ؛ در موقع پر رسول مقبول صلی اللہ علی کلم نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر ہے اور میں تم سب میں سے اس معاملہ میں بہتر ہوں (ترمذی) عَلِيًّا كيرا۔یعنی بہت بلند اور بہت بڑا ہے کا اِس آیت کے آخر میں ذکر کرنے کا مقصد خاوندوں کو خبر دار اور ہوشیار کرنا ہے کہ اگر بیولوں کو خدا نخواستہ مارنے کی نوبت آئے تو اس میں بے انصافی۔انتظام اور ظلم کا عنصر نہیں ہونا چاہیے۔اگر چہ وہ اپنی بیویوں پر بلند اور بڑے ہیں۔