قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 10 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 10

ان معنوں کے لحاظ سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ عورت مرد کی پسلی سے نہیں بلکہ مرد عورت کی پسلی سے پیدا ہوا ہے جسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ان آیات کا اصل مطلب یہ ہے کہ عورت مرد کا اور مرد عورت کا ٹکڑا ہے دونوں مل کر ایک کامل وجود بنتے ہیں۔الگ الگ رہیں تو مکمل نہیں ہو سکتے۔مکمل ہے جو اسی وقت ہوتے ہیں جب دو توں مل جائیں۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی اخلاقی تعلیم۔اسلام نے دی۔اس لحاظ سے جو مرد شادی نہیں کرتا وہ مکمل مرد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جو عورت شادی نہیں کرتی وہ بھی مکمل عورت نہیں ہوسکتی۔پھر جو مرد اپنی عورت سے حسن سلوک نہیں کرتا اور اُسے تنگ کرتا ہے وہ بھی اس تعلیم کے ماتحت اپنا حصہ آپ کا ٹتا ہے۔اسی طرح جو عورت مرد کے ساتھ عمدگی سے گزارا نہیں کرتی وہ بھی اپنے آپ کو نامکمل بناتی ہے اور اس طرح انسانیت کا جز نامکمل رہ جاتا ہے۔پس جب انسانیت مرد کا نام نہیں اور نہ انسانیت عورت کا نام ہے بلکہ مرد و عورت ان کے مجموعے کا نام انسانیت ہے تو ما نا پڑے گا کہ انسانیت کو مکمل کرنے کے لئے مرد و عورت کا ملنا ضروری ہے۔اور جو مذہب ان کو علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے وہ انسانیت کی جڑ کاٹتا ہے۔اگر مذہب کی غرض دنیا میں انسان کو مکمل بنانا ہے تو یقیناً مذہب اس عمل کی مخالفت نہیں کرے گا بلکہ اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرے گا۔اور جو مذہبی کتاب بھی اس طبیعی فعل کو برا قرار دے کر اس سے روکتی ہے یا اس سے بچنے کو ترجیح دیتی ہے وہ یقینا انسانی تکمیل کے رستہ میں روک ڈال کر اپنی افضلیت کے حق کو باطل کرتی ہے۔