قواریر ۔ قوامون — Page 9
انْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ اَزواجا (شوری آیت (۱۲) تمہارے نفسوں سے تمہار جوڑا اور چوپایوں میں سے اُن کا جوڑا بنایا گیا۔اگر آدم کی پسلی سے خوا پیدا کی گئی تھی تو چاہیے تھا کہ پہلے گھوڑا پیدا ہوتا اور پھر اس کی پسلی سے گھوڑی بنائی جاتی۔اسی طرح جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا تو فرشتہ آنا اور اس کی پہلی کی ایک ہڈی نکال کر اس سے لڑکی بنا دیا۔مگر کیا کسی نے کبھی ایسا دیکھا ہے ؟ تیسرے خدا تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوجَهَا لِيَسْكُنَ إِليها (اعراف آیت ۱۹۰) وه خدا ہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا وَجَعَلَ مِنْهَا زَوجها اور اس سے اس کا جوڑا بھی بنایا ہے لیٹ کن الیھا تاکہ وہ اس سے تعلق پیدا کر کے تسکین حاصل کرے۔دہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ انسان کا جوڑا پسلی سے بنایا گیا ہے۔وہ بھی صرف یہی کہتے ہیں کہ حضرت آدم کی پہلی سے توا کو بنا یا گیا۔یہ کوئی نہیں کہنا کہ حوا کی پہلی سے آدم کو بنا یا گیا لیکن اس آیت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرد کی پہلی سے عورت نہیں بنی بلکہ عورت کی پسلی سے مرد بنا ہے کیونکہ اس میں زوجھا کی ضمیر نفس واحدہ کی طرف جاتی ہے جو مونٹ ہے۔اسی طرح منھا میں بھی ضمیر مونت استعمال کی گئی ہے۔اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس نفس واحد سے اُس کا زوج بنایا اور زوج کے لئے لیکن میں مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا کہ ہے۔جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زردرج کر تھا جو ایک مادہ سے پیدا ہوا اپس