قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 23 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 23

(1) مداصلی یا مد طبیعی 23 11- مدات کی اقسام الف (1) سے پہلے فتحہ ہو، و ساکن (و) سے پہلے ضمہ ہو، اوري ساكن بي ) سے پہلے کسرہ ہو تو پچھلے حرف کی آواز (فتحہ ، ضمہ ، کسرہ) لمبی کی جاتی ہے۔ان حروف کو حروف مد کہتے ہیں۔اور یہ مد، مداصلی یا مد طبعی کہلاتی ہے۔مثالیں : مقدار: (i (ii (iii الف () سے پہلے فتحہ و ساکن ( و ) سے پہلے ضمہ ي ساكن (ي ) سے پہلے کسرہ إِيَّاكَ ، الصِّرَاط الْمَغْضُوبِ يُقِيمُونَ قِيلَ، شَيْطِيِّنِهِمُ اسے مداصل (یا اصلی) اس لئے کہا جاتا ہے، کیونکہ اگر فتحہ ، کسرہ، ضمہ کو لمبانہ کیا جائے تو لفظ کا وجود ہی نہیں رہتا۔مثلاً: لا کا مطلب ہے " نہیں "، جبکہ آ کہ مطلب ہے "ضرور " مداصلی کی مقدار ر فتحہ ، کسرہ اور ضمہ سے دوگنی ہوتی ہیں۔حروف مدہ کا کام پہلے سے موجود آواز کو دوگنا کرنا ہے۔آواز کو بدلا نہیں جاتا، نہ ہی دو گنے سے زیادہ لمبا کیا جاتا ہے۔مد اصلی یا طبعی کی ایک قسم ہے فتحہ اشباعیہ ، کسرہ اشباعیہ، ضمہ اشباعیہ۔اس میں بھی اصل آواز دو گنی ہوتی ہے۔مثلاً إِلَهَ ، بِنَصْرِهِ ، عِنْدَهُ