قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 44 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 44

(3 (4 شدة 44 ایسے حروف مضبوطی سے اپنے مخرج میں ٹھہرتے ہیں اور ساتھ ہی آواز بند ہو جاتی ہے۔یہ حروف، حروف مشدد کہلاتے ہیں۔8 حروف، حروف مشدد ہیں : و، ب، ت، ج، د، ط ، ق ، ک ان حروف کو یادرکھنے کے لئے: أَجِدْكَ قَطَبْتَ امثال قرآنیه : اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (1:6) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ (6:3) وَ جَعَلَ الظُّلُمَتِ وَ النُّوْرَ (6:2) وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ(9:15) نوٹ : تشدید ، همس کی ضد نہیں ہے۔اس وجہ سے تشدید اور ھمس ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ت اورک حروف مهموسہ بھی ہیں اور مشدّد بھی۔ان میں تشدید کی وجہ سے آواز بند ہو جاتی ہے اور ھمس کی وجہ سے تھوڑی سی جاری بھی رہتی ہے۔رِخْوَة رخوۃ کے معنی نرمی کے ہیں۔رخوۃ میں آواز نرمی سے مخرج میں ٹھہر جاتی ہے اور سانس جاری رہتا ہے۔رخوة ضد ہے شدہ کی۔وہ حروف جو مشدد اور متوسطہ نہیں ہیں ، وہ رخوہ میں آجاتے ہیں۔مشدد اور رخوة کے درمیان صفت متوسطہ ہے۔اس پر آواز پوری طرح بند نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی پوری طرح جاری رہتی ہے۔حروف متوسطہ یہ ہیں : ر، ع ، ل ، م ، ن۔ان کو ایک لفظ میں اس طرح جمع کیا گیا ہے : لِنْ عُمَرُ امثال قرآنیه (متوسطه) قَالَ وَأَقْرَرْتُمْ وَ أَخَذْتُمْ عَلَى ذُلِكُمْ وَ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ (6:3) اصرى (3:82) الرَّ كِتُبٌ أَنْزَلْتُهُ إِلَيْكَ (14:2) وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ بِالْقِسْطِ (10:5) امثال قرآنیه (رخوه): اوپر دی گئی امثال میں تمام حروف جو مشدد یا متوسطہ نہیں، وہ رخوہ کی صفت رکھتے ہیں۔