قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 45 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 45

(6 45 5) استغلاء استعلاء کے معنی ہیں بلندی چاہنا یا اوپر کی طرف مائل ہونا۔ان حروف کو حروف مستعلیہ کہتے ہیں۔جن حروف کی ادائیگی میں زبان کی جڑاو پر تالو کی طرف اٹھتی ہے اور آواز کچھ موٹی یا بھر پور ہو جاتی ہے۔حروف مستعلیہ 7 ہیں : خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق استعلاء کے بعد ا آئے تو ا کی آواز پر ہو جاتی ہے، یعنی تنظیم کے ساتھ ادا ہو جاتی ہے۔ان حروف کو یاد کرنے کے لئے: خُصَّ ضَغَطٍ قِطْ امثال قرآنیه : اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (1:6) ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (24:28) وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا (27:15) يَوْمَ يَغْشُهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ (29:56) لَنُبَونَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا (29:59) وَ قَالُواءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ (32:11) اسْتِفَال استفال ضد ہے استعلاء کی۔اس وجہ سے اگر استعلاء کے میں آواز پُر ہوتی ہے تو استفال میں بار یکی پائی جاتی ہے۔لہذا جو حروف مستعلیہ نہیں وہ مُستَفِلہ ہونگے۔امثال قرآنیه : اوپر دی گئی امثال میں جو حروف مستعلیہ نہیں، وہ مستقلہ ہیں۔