قتل مرتد اور اسلام — Page 47
47 اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوئی ،مگر یہی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور نماز کو آتے ہیں تو سخت سنتی کی حالت میں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں انتہائی بددلی سے۔“ پھر اللہ تعالیٰ منافقین کے متعلق اپنے غضب کا اظہار اس طرح کرتا ہے:۔سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (المنافقون:7) ان لوگوں کے لئے تم دعائے مغفرت کر دیا نہ کرو ان کے حق میں دونوں باتیں یکساں ہیں۔خدا تو ان کے گناہ معاف کرنے والا ہے ہی نہیں۔بے شک خدا نا فرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔پھر اللہ تعالیٰ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ حکم دیتا ہے:۔وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَسِقُوْنَ (التوبة: 84) (اے پیغمبر!) اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو تم ہرگز ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھنا اور نہ ان کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر 66 کیا اور سرکشی کی حالت میں مرگئے۔“ پھر اللہ تعالیٰ ہر سال ایک یا دو مرتبہ منافقوں کے لئے ایسے سامان پیدا کرتا جن سے ان کا نفاق ظاہر ہوجاتا اور اللہ تعالیٰ کی اس سے یہ غرض تھی کہ ان کا نفاق ظاہر ہوکر یہ لوگ مسلمانوں سے ممتاز ہو جاویں اور جب ان کا نفاق کھل جائے گا اور مومنوں پر ظاہر ہو جائے گا کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے تو وہ ہوشیار ہو جائیں گے اور ان کو مومنین کی جماعت میں شامل سمجھ کر دھوکہ نہیں کھائیں گے اور اس طرح عملی طور پر ان کو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت سے خارج کرتا رہتا اور مومنین کے گروہ کو ان کے خبث سے پاک کرتا رہتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماماتا ہے:۔