قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 48 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 48

48 اَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ (التوبة: 126) کیا یہ لوگ اتنی بات بھی نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش کی آگ میں ڈالے جاتے ہیں تا کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے۔اس پر بھی نہ تو تو بہ ہی کرتے ہیں اور نہ نصیحت ہی پکڑتے ہیں۔“ اس آیت کریمہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ منافق اور مومن ملے جلے رہتے اس لئے وہ ایسے سامان پیدا کر دیتا کہ منافقین کا نفاق ظاہر ہو جاتا اور اس طرح وہ عملی طور پر مسلمانوں کی خالص جماعت سے الگ ہو جاتے اور مسلمان ان کے میل جول کے بداثر سے محفوظ ہو جاتے۔پس قرآن شریف میں منافقین کا ذکر کثرت کے ساتھ موجود ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ظاہر کیا گیا ہے اور غالبا کفار کی برائی بھی ایسے زور سے بیان نہیں کی گئی جیسی کہ منافقین کی برائی بیان کی گئی ہے۔ان آیات کریمہ کی موجودگی میں کوئی عظمند اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا حکم دے جس کے نتیجہ میں منافقین لوگ اسلام میں داخل ہوں۔اللہ تعالیٰ تو منافقوں کو مسلمانوں میں سے خارج کرتا ہے تا مسلمانوں کی جماعت ان کے بداثر سے آلودہ نہ ہو اور وہ ایسے خبیث لوگوں سے پاک اور صاف رہے اور وہ ایسے حکم دیتا ہے جن کے ذریعہ منافق ،مسلمانوں سے الگ ہو جاویں اور وہ ان میں مل جل کر نہ رہ سکیں۔لیکن ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسا حکم دے رکھا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی جان کے خوف سے باوجود بے ایمان ہونے کے مسلمانوں میں ملے جلے رہیں۔ان کے دل میں کفر ہو مگر وہ یہ ظاہر کرتے رہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں منافقوں کا گروہ ہمیشہ قائم رہے۔قرآن شریف تو ایسے لوگوں کو دھکے دے دے کر مسلمانوں کی جماعت میں سے باہر نکالتا ہے اور