قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 39 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 39

39 پھر حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو بڑا عظیم الشان نبی دنیا میں آیا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔آؤ ہم دیکھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رویہ کیسا تھا اور ان کی قوم نے کیسا رویہ اختیار کیا ؟ اور پھر اس بات کا فیصلہ کریں کہ اس زمانہ کے مسلمان ان دونو رویوں میں سے کس رویہ کو اختیار کر رہے ہیں اور امیر کابل نے کونسا رویہ اختیار کیا ، ابراهیمی یا نمرودی؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک نوجوان آدمی ہیں جو اپنی قوم کے جھوٹے معبودوں کے عجز اور بے بسی کو ظاہر کرنے کے لئے ان بتوں کو توڑتے ہیں جن کا متوتی ان کا اپنا خاندان تھا اور ان کی قوم کے لوگ ٹوٹے ہوئے بتوں کا نظارہ دیکھ کر غضب میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کس نے ہمارے بت توڑے؟ وہ بڑا ہی ظالم اور بالفاظ مولوی ظفر علی خاں صاحب بڑا ہی ” مفسد اور شریر النفس انسان ہے۔اس پر بعض نے پتا دیا اور کہا سَمِعْنَا فَى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ ابْرُ هِيمُ (الانبياء: 61) وہ نو جوان جس کو ابراہیم کے نام سے پکارا جاتا ہے اس کو ہم نے ان بتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔اور پھر وہ نوجوان اپنی قوم کے بزرگوں کے سامنے بلایا جاتا ہے اور سوال و جواب میں جب وہ لوگ لا جواب اور شرمندہ ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں :۔حَرِّقُوهُ (الانبياء: 69) یعنی اس نوجوان کو آگ میں ڈال کر جلا دو۔اسی طرح حضرت ابوالانبیاء کے اب آزر اپنی شفقت کا اظہار ان لفظوں میں کرتے ہیں:۔لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ (مريم: 47) اگر تو اپنے اس نئے مذہب سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔