قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 38 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 38

38 آؤ ہم قرآن شریف کی طرف رجوع کریں اور گزشتہ امتوں کے حالات کا جو ہمارے لئے بطور سبق بیان کئے گئے ہیں مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ مذہب کی تبدیلی پر دکھ دینا کن لوگوں کا شیوہ رہا ہے؟ مومنین کا یا کفار کا؟ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر بڑے بڑے نبی اور رسول گزرے ہیں میں ان میں سے اکثر کے حالات کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا آپ کو معلوم ہو کہ امراء کابل نے نعمت اللہ خان مرحوم اور دیگر شہداء جماعت احمدیہ کوسنگسار کر کے کس گروہ میں اپنی تیں داخل کیا ہے اور کس جماعت کے نقش قدم پر گامزن ہوئے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد پہلا اولوالعزم جن کا ذکر قرآن شریف میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے قبول کرو۔اور پھر فرماتے ہیں:۔إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (الشعراء: 116) میں تو لوگوں کو صاف طور پر ڈرانے والا ہوں اور بس۔میرا یہ کام نہیں کہ میں کسی کو جبراً اپنے دین میں داخل کروں۔مگر ان کی قوم کہتی ہے۔لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يُنُوْحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِينَ - (الشعراء: 117 ) اے نوح! اگر تم اپنے اس نئے مذہب سے باز نہ آؤ گے تو ضرور سنگسار کر دیئے جاؤ گے۔اب دونو کے طریق کا مقابلہ کرو۔حضرت نوح علیہ السلام تو اپنی قوم کو اپنے نئے پیغام کی طرف بلاتے ہیں اور فرماتے ہیں میرا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچادینا ہے اور بس۔مگر ان کی قوم ان کو سنگساری کی دھمکی دیتی ہے۔اب آپ خود ہی فیصلہ فرمالیں کہ ان دونوں راہوں میں سے کون سی راہ خدا کی رضا کی راہ ہے اور کونسی راہ وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک بُری ہے اور غضب الہی کو بھڑکاتی ہے۔اور آپ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ فرمالیں کہ ان دونوں میں سے کونسی راہ ہے جو امراء اور علماء کا بل نے اختیار کی ؟