قتل مرتد اور اسلام — Page 262
262 ہے تو وہ صرف پیدا ہونے والی شر کو روکنے کی غرض ہوتا ہے اور وہ شر حراب یعنی لڑائی ہے۔اور چونکہ عورتوں میں اپنی پیدائش کی وجہ سے جنگ کی قابلیت نہیں ہوتی۔اس لئے اُن کو قتل نہیں کیا جاتا۔(۲) ھدایہ کے بعد میں فتح القدیر کی شہادت کو پیش کرتا ہوں۔دیکھو فتح القدیر کا مصنف کیسی صفائی سے اس مضمون پر روشنی ڈالتا ہے۔وہ لکھتا ہے:۔يجب في القتل بالردة ان يكون لدفع شرّ حرابه لا جزاءً على فعل الكفر لان جزاءه اعظم من ذلك عند الله تعالى فيختص بمن۔يتأتى منه الحراب وهو الرجل ولهذا نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن قتل النساء وعلله بانّها لم تكن تقاتل على ماصح من الحديث فيما تقدّم (فتح القدير جلد 4 صفحه 389) یعنی مرتد کو قتل کرنے میں یہ واجب ہے کہ وہ اُس کے حراب یعنی جنگ کی شر کوڈ ورکرنے کے لئے ہو۔نہ کہ اُس کو کفر اختیار کرنے کی سزا ہو۔کیونکہ کفر کی سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بہت بڑھ کر ہے۔پس قتل اسی شخص کے ساتھ خاص ہے جس سے حراب سرزد ہو اور وہ مرد ہی ہو سکتے ہیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس کو بُرا قرار دیا ہے کیونکہ عورتیں جنگ نہیں کیا کرتی تھیں۔(۳) پھر چلسی میں لکھا ہے :۔قال ابن الهمام لا جزاء على فعل الكفر فان جزاءه اعظم عند ال من ذلك۔(چلپی برحاشیہ فتح القدیر صفحہ 388) یعنی کفر اختیار کرنے کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دی جاتی ہے۔کیونکہ کفر کی سزا قتل سے بڑھ کر ہے اور وہ خدا تعالیٰ خود ہی دے سکتا ہے۔