قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 236 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 236

236 ملک عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سلطنت اسلامی قائم ہو چکی تھی اور آپ کے جانشین کا یہ فرض اولین تھا کہ وہ اس سلطنت کا انتظام کریں۔اور جو اموال سرکاری خزانہ میں اس سلطنت کی رعایا کی طرف سے داخل ہوتے تھے ان کی وصولی کا انتظام کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زکوۃ کی وصولی کا انتظام اسلامی حکومت کے ماتحت تھا۔اسلامی حکومت کی طرف سے اس کے وصول کرنے کے لئے عامل مقرر تھے جو با قاعدہ اموال کی تشخیص کر کے زکوۃ اسی رنگ میں وصول کرتے جس طرح دوسری حکومتیں اپنے اپنے محاصل وصول کرتی ہیں۔یہ امر مومنین کی مرضی پر نہیں چھوڑا گیا تھا کہ جو چاہیں دیں یا جس کو چاہیں دیں یا اگر اس میں غفلت کریں تو ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہ ہو بلکہ یہ سارا انتظام حکومت کے ہاتھ میں تھا۔حکومت کے آدمی زکوۃ کی تشخیص کرتے اور وہی اس مال کو انتخاب کرتے جو انہوں نے زکوۃ کے طور پر لینا ہوتا تھا۔محصلین زکوۃ کو ہدایت تھی کہ وہ لوگوں کا بہترین مال زکوۃ کے لئے نہ لیں بلکہ درمیانی درجہ کا مال لیں۔مثلاً اگر کسی کے ذمہ ایک اونٹ نکلتا تو محصل کو ہدایت تھی کہ وہ ایسا نہ کرے کہ اس شخص کے اونٹوں میں سے بہترین اونٹ چن کر لے بلکہ اس کو یہ ہدایت تھی کہ درمیانی درجہ کا اونٹ انتخاب کرے۔اس ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس امر میں مال کے مالکوں کا کوئی اختیار نہ تھا بلکہ تمام اختیار اس محصل کے ہاتھ میں تھا جو حکومت کی ہدایت کے ماتحت کام کرتا تھا۔پس اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ زکوۃ کا مال رعایا سے اسی طرح وصول کیا جاتا تھا جس طرح کہ دوسری گورنمنٹیں اپنی اپنی رعایا سے سرکاری مالیہ وصول کرتی ہیں یعنی زکوۃ مسلمانوں پر ایک قسم کا ٹیکس تھا جو وہ حکومت اسلامی کو ادا کرتے تھے جس طرح کہ دوسری قومیں اپنے اپنے بادشاہوں کو ٹیکس ادا کرتی ہیں۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہی زکوۃ ہی وہ مال تھا جس کے ذریعہ سلطنت اسلامی اس وقت کے اکثر اخراجات کو پورا کرتی۔فوجی ضروریات اسی مال میں سے پوری کی