قتل مرتد اور اسلام — Page 206
206 تعالى فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام فان قراءة العامة مطلقة و قراءة ابن مسعود رضى الله عنه فصيام ثلاثة ايام متتابعات مقيدة بالتتابع والقراءتان بمنزلة الأيتان في حق المعاملة فيجب ههنا ان تقيد قراءة العامة ايضا بالتتابع لان الحكم وهو الصوم لا يقبل وصفين متضادين فاذا ثبت تقيده بطل اطلاقه۔(نورالانوار شرح المنار تحت كشف الاسرار شرح المصنف على المنار في الاصول جلد اصفحہ 378 مطبوعہ مصر ) ترجمہ: یہ کہ ہمارے نزدیک مطلق کو مقید پرمحمول نہیں کیا جاتا اگر چہ حادثہ ایک ہو۔لیکن اگر حکم ایک ہو جیسا کہ قرآن کریم میں کفارہ یمین کے تین روزوں کا ذکر آیا کہ اس میں عام قراءت مطلق ہے جس کے ساتھ کوئی قید نہیں لگی ہوئی کہ وہ روزے یکے بعد دیگرے مسلسل ہوں۔یا کہ درمیان میں وقفہ بھی آجانا جائز ہے۔مگر حضرت عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں یکے بعد دیگرے مسلسل بغیر وقفہ کے ان روزوں کے رکھنے کا ذکر آیا ہے اس واسطے عام قراءت کو اس دوسری قراءت کے ساتھ جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی ہے مقید کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔کیونکہ روزہ رکھنے کا یہ حکم ان دو متضاد صفتوں کے ساتھ متصف نہیں ہو سکتا کہ وہی تین روزے پے در پئے بلا وقفہ بھی رکھے جائیں اور وقفہ کرنا بھی اس میں جائز ہو۔اب حامیان قتل مرتد اس مسلمہ اصول کو ان روایات پر چسپاں کر کے دیکھیں جو قتل مرتد کے بارے میں دواوین احادیث میں موجود ہیں اور بتائیں کہ اس اصول کے رو سے ہمیں کیا فیصلہ کرنا چاہئیے۔کیا ان روایات کو لینا چاہئیے جن میں کسی قید کا ذکر نہیں یا اُن روایات کی پیروی کرنی چاہئیے جن میں محاربہ کی شرط موجود ہے۔پس ان احادیث سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ کیا یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر ایک مرتد کے قتل کا حکم نہیں بلکہ صرف ایسے مرتد کا جو محارب بھی ہو۔خالص سوناوہ ہوتا ہے جو کسوٹی پر پرکھنے سے خالص ثابت ہو۔اس نتیجہ کو