قتل مرتد اور اسلام — Page 145
145 کیا۔مگر دوسرے لوگوں نے ( جو اس گروہ کے ساتھ بالکل ہم خیال اور متفق الرائے تھے اور جن کا عقیدہ بھی اس گروہ کی طرح یہی تھا کہ دین میں جبر کرنا جائز ہے) دیکھا کہ اس آیت کے کھلے کھلے اور صریح الفاظ ایسے معنوں کی اجازت نہیں دیتے اور یہ کہ اس آیت کریمہ کی طرف ایسے معنے منسوب کرنا سراسر تکلف اور بناوٹ ہے۔اس لئے باوجود یکہ وہ اس گروہ کے ساتھ بالکل ہم عقیدہ تھے اور جبر کو بالکل جائز قرار دیتے تھے ان کی طبیعتوں نے ان معنوں کو قبول نہ کیا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ لا اکراہ فی الدین کے بے شک یہی معنی ہیں کہ دین میں جبر نہیں ہونا چاہیئے لیکن انہوں نے اپنے عقیدہ کے بچاؤ کی یہ راہ اختیار کی کہ کہہ دیا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔اس کے معنے بےشک یہی ہیں کہ دین میں جبر نہیں ہونا چاہیئے۔اس کے سوا کوئی اور معنی کرنا محض تکلف ہے مگر یہ آیت منسوخ شدہ ہے اسلام میں اب اس پر عمل نہیں۔ان کے بعد ایک تیسرا گروہ اٹھا۔انہوں نے بھی دوسرے گروہ کے ساتھ اس امر میں اتفاق کیا کہ بے شک یہ آیت کریمہ صاف اور واضح ہے اور اس کے یہی معنے درست ہیں کہ دین میں جبر نہیں ہونا چاہئیے۔لیکن یہ ایک اصولی آیت ہے۔اصول حقیقتوں پر مبنی ہوتے ہیں اور حقیقتیں دائمی سچائیاں ہیں جو کبھی منسوخ نہیں ہو سکتیں اس لئے یہ قول قابل پذیرائی نہیں ہو سکتا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔لیکن چونکہ اس تیسرے گروہ کا بھی پہلے دو گروہوں کی طرح یہی عقیدہ تھا کہ مشرکین اور اہل الا وخان کے لئے کوئی آزادی نہیں۔ان کے لئے صرف دو ہی راہیں کھلی ہیں چاہیں تو اسلام قبول کر کے اپنی جان بچالیں چاہیں تو مسلمانوں کی تلوار کا مزہ چکھ کر واصل جہنم ہوں۔اس لئے انہوں نے اپنے اس عجیب و غریب عقیدہ کی حفاظت کے لئے یہ تجویز نکالی کہ یہ آیت اپنے مفہوم میں عام نہیں ہے بلکہ یہ صرف اہل کتاب کے لئے خاص ہے مشرکین اور اہل الاوثان اس سے مستثنیٰ ہیں۔چنانچہ فتح البیان جلد نمبر اصفحہ ۳۴۰ میں لکھا ہے:۔