قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 10 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 10

10 مولوی ظفر علی خاں صاحب اس کی تائید میں فقہ حنبلی کی مشہور کتاب المقنع سے ذیل عبارت نقل کرتے ہیں:۔فمن ارتد عن الاسلام من الرّجال والنساء و هو بالغ عاقل دعى اليه ثلاثة ايام وضيق عليه فان لم يتب قتل۔لا يجب استتابته بل تستحب و يجوز قتله في الحال۔،، جو شخص اسلام سے مرتد ہو جائے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور عاقل و بالغ ہو تو اسے تین روز تک اسلام کی طرف بلایا جاوے اور اسے تنگ کیا جائے اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے۔تو بہ طلب کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور مرتد کو معا قتل کر ڈالنا بھی جائز ہے۔ایسا ہی لکھا ہے کہ اگر مرتد کوکوئی شخص بغیر قاضی یا بادشاہ کے حکم کے جان بوجھ کر یا بھول کر قتل کر دے یا اس کی آنکھ پھوڑ دے یا ناک کاٹ دے یا ٹانگ تو ڑ دے،غرض کچھ کرے اس سے کوئی باز پرس نہیں۔یہ اس تعلیم کا مختصر خاکہ ہے جو آج مولوی صاحبان اسلام کے نام سے دنیا کے آگے پیش کر رہے ہیں۔ایک نے ان میں سے جن کا نام نامی ” شبیر احمد عثمانی“ ہے یہاں تک جسارت کی ہے کہ کہہ دیا ہے کہ یہ تعلیم صریح طور پر قرآن شریف میں موجود ہے مگر دوسروں نے ایسی جرات نہیں کی بلکہ یہ کہا ہے کہ قرآن شریف اس امر کے متعلق ساکت ہے۔چنانچہ مولوی ظفر علی خاں صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:۔بلا شبہ یہ صحیح ہے کہ ہمدرد کی پیش کردہ آیات میں مرتد کے لئے سزائے قتل کا ذکر نہیں اور ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ غالباً کسی دوسری آیت میں بھی بالتصریح ایسا حکم نظر نہیں آتا۔“ مولوی ظفر علی خاں صاحب نے تو ”بالتصریح ذکر نہ ہونے کی شرط بڑھا کر