قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 9 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 9

9 گزر جائے بلکہ فورا اس بوڑھے ضعیف کا سر بھی قلم کر دینا چاہئیے اور اس طرح اس کو اسلام کی ہیبت کا مزہ چکھانا چاہئیے۔اگر مرتد بیمار پڑا ہے اور اس قابل نہیں کہ بستر سے بھی اُٹھ سکے اور بخار کی تیزی یا درد کی شدت کی وجہ سے حالت اضطراب میں ہے تو اس کو بھی مہلت نہیں دینی چاہئیے کہ وہ شفا کا منہ دیکھے یا اس بیماری میں ہی اس عالم سے رخصت ہو بلکہ اسلامی جلا دکو چاہئیے کہ بستر مرض پر ہی اس کے سر کو تن سے جدا کر دے تا اسلام کا جلال دنیا پر ظاہر ہو۔اسی طرح اگر اسلام سے ارتداد کرنے والی ایک بڑھیا ضعیف عورت ہے اس کی گردن بھی ہمارے علماء کے اسلام کی کھینچی ہوئی تلوار کی ضرب سے محفوظ نہیں۔اسی طرح اگر کوئی مرتد نا بینا یا پانی ہے تو وہ بھی ہمارے علماء کے ہاتھوں ذبح ہونے سے محفوظ نہیں۔حالانکہ وہ قو میں جو اسلام کی بیخ کنی کے لئے مسلمانوں پر جارحانہ حملے کر رہی ہوں ان کے بعض افراد کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن دیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ایسے افراد کو باوجود جنگ کے قتل سے بچایا جائے لیکن ہمارے علماء کی مرتد کش تلوار سے ایسے افراد بھی محفوظ نہیں۔اسلام کی تعلیم تو یہ سکھاتی ہے کہ پیاسے کتے کو پانی پلا کر تم جنت میں جاسکتے ہو اور ایک کا فر کو پیاس کے دکھ سے آرام دے کر خدا تعالیٰ سے اجر پاسکتے ہو۔لیکن ہمارے بعض علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر تمہارے پاس وضو کے لئے پانی ہو اور ایک مرتد پیاس سے مر رہا ہو تو اس کو پیاس سے مرنے دو گر وضو کا پانی اسے پھر مرتد کو اپنی جان بچانے کے لئے تو بہ کا موقع دینا بھی ایک گروہ علماء کے نزدیک ضروری نہیں اور جائز ہے کہ بغیر ایسا موقع دینے کے مرتد کو مرد ہو یا عورت۔جوان ہو یا پیر فرتوت۔تندرست ہو یا بیمار فوراً بلا تامل قتل کر دیا جائے اور جو علماء موقع دینا ضروری سمجھتے ہیں وہ بھی اکثر تین دن سے زیادہ مہلت کی اجازت نہیں دیتے اور اس عرصہ میں بھی علماء کا ایک گروہ ہدایت دیتا ہے کہ مرتد کو دکھ دیا جائے تا کہ وہ تو بہ کرنے پر مجبور ہو۔چنانچہ سے نہ دو۔