قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 96 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 96

96 سے ثابت کر سکتا ہوں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :۔یوں تو قرآن کریم کی بہت سی آیات ہیں جو مرتد کے قتل پر دلالت کرتی ہیں لیکن ایک واقعہ جماعت مرتدین کے بحکم خدا قتل کئے جانے کا ایسی تصریح اور ایضاح کے ساتھ قرآن میں مذکور ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کے لئے اس میں تاویل کی ذرہ گنجائش نہیں۔نہ وہاں محاربہ ہے نہ قطع طریق۔نہ کوئی دوسرا جرم۔صرف ارتداد اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس پر حق تعالیٰ نے ان کے بے دریغ قتل کا حکم دیا ہے۔“ اس دعویٰ کی تائید میں وہ ایک ایسی آیت پیش کر بیٹھے ہیں جس سے ان کی تفسیر کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ایک شخص ارتداد کرے تو اس کو پہلے سمجھاؤ کہ وہ تو بہ کرے اور جب وہ تو بہ کر چکے تو پھر اس کے بعد اس کو قتل کر دو۔اب مولوی صاحب نے دیکھا ہے کہ یه نتیجه خود ان کے اپنے قائم کردہ اصل کے خلاف ہے اور تمام حامیان قتل مرتد کے مسلمہ اصول کے مخالف۔تو انہوں نے اپنے اس مضحکہ خیز استدلال کی بیہودگی کولوگوں کی نظر سے پوشیدہ کرنے کے لئے یہ حیلہ تراشا کہ بعض اقسام مرتدین کے ایسے بھی ہیں جن کے متعلق علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ سچی اور خالص تو بہ کے باوجود بھی ان کو قتل کر دیا جائے۔اول تو مولوی صاحب کا فرض یہ تھا کہ قتل مرتد کے متعلق جو اصل انہوں نے پیش کیا تھا کہ مرتد کو تو بہ کا موقع دیا جائے اگر تو بہ کرے تو فبہاور نہ قتل کیا جائے۔اس اصولی مسئلہ کی تائید میں قرآن شریف سے کوئی آیت پیش کرتے۔مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے۔بلکہ ایک ایسی تفسیر پیش کی جو ان کے قائم کردہ اصول کے بالکل الٹ ہے۔دوم اگر مولوی صاحب اصل کو چھوڑ کر کسی شاذ اور استثنائی صورت کی پناہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو وہ کوئی ایسی مثال پیش کریں جو (۱) خالص ارتداد کی صورت ہو کسی اور چیز کی آمیزش اس میں نہ پائی جائے ( کیونکہ یہی امر ہمارے زیر بحث ہے)